حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 379 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 379

حیات بقا پوری 379 اس نے شہر کا سب سے پہلے حضرت مولانا بقا پوری صاحب نے ذکر کیا تھا۔لیکن جب کئی سال کہ بعد مجھے بطور ڈپٹی سیکرٹری (انڈسٹریز) اسلام آباد تعینات کیا گیا تو مجھے جذباتی طور پر اس بات کا احساس ہوا کہ وہ چکر چلا ہوا ہے اور میری کراچی میں بطور کلکٹر کسٹمز تعیناتی بھی ایک عجیب طریق پر ہوئی۔ان تعیناتیوں کے سلسلے کی جس طرح اطلاع دی گئی تھی پورا ہو چکا تھا۔اور خدائے قادر مطلق کے سوا کون پہلے ہی ان سب تبدیلیوں کا انکشاف کر سکتا تھا۔اور کسے ان سب کا پہلے ہی سے علم ہوسکتا تھا ؟ ایک دفعہ شاید ۵۸-۱۹۵۷ء کی بات ہے کہ میری بیوی کی ایک آنٹی انہیں ملنے کے لیے شام کے وقت لاہور آئیں۔وہ بہت اچھے موڈ میں تھیں۔ان کی خوش قسمتی سے حضرت مولا نا بقا پوری صاحب بھی اس وقت لاہور تشریف لائے ہوئے تھے اور ہمارے پاس ہی ایک یا دو دن کے لیے ٹھہرے ہوئے تھے۔ہم سب اسوقت ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔جب میری بیوی کی آنٹی تشریف لائیں میں نے حضرت مولا نا بقا پوری صاحب سے ان کی بہتری کے لیے دعا کی درخواست کی تاکہ وہ بھی حضرت مولانا بقا پوری صاحب کی موجودگی کی برکت سے حصہ پاسکیں۔آپ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور ہم بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔اور جب انہوں نے چند منٹ کے بعد دعا ختم کی تو وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور ان کا چہرہ سنجیدہ تھا۔انہوں نے کہا کہ آپ نے یہ تو بتایا ہی نہ تھا کہ ان کا دل غم اور تکلیف سے بھرا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالٰی نے ان کو آنٹی کی حالت سے مطلع کیا ہے اور مولانا کو بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ آنٹی کی مشکلات کو دور کر دے گا۔ہماری اس آنٹی کی دو دفعہ شادی ہو چکی تھی لیکن پہلی دفعہ رخصتی ہی نہیں ہوئی تھی اور دوسری دفعہ اب ان کی رخصتی میں بہت زیادہ تاخیر ہورہی تھی اور ممکن تھا کہ یہ شادی بھی ناکام ہو جائے اور یہی وجہ اس کے شدید غم اور دکھ کی تھی۔جس کا علم میری بیوی کو تھا۔اس دعا کہ کچھ عرصہ بعد ہی اس کی شادی ایک اچھے خاندان کہ فرد سے ہوگئی جس نے آج تک اس کی خدمت بہت اچھی طرح کی ہے۔اسی طرح سے اس بزرگ ہستی نے ایک پوشیدہ امر کو ظاہر کر دیا۔یعنی اس کے شدید غم کو۔اور ان کی دعا کے نتیجہ میں اس کی شادی جلد ہی بخیر و عافیت ہو گئی۔میرے کیرئیر کے دوران حکومت کی طرف سے ایک نیا شعبہ قائم کیا گیا جس کا نام اکنا مک پول رکھا گیا۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں یہ سب سے زیادہ پُر وقار شعبہ تھا۔میں نے اس میں شامل ہونے کے لیے دو دفعہ درخواست دی۔اس کا انتخاب ہر سال کیا جاتا تھا لیکن کبھی زیادہ وقت کے بعد بھی کیا جاتا تھا )۔میں دو دفعہ انٹرویو میں شامل ہوا لیکن دونوں دفعہ منتخب نہ ہو سکا۔میں نے حضرت مولانا بقا پوری صاحب سے کامیابی کے لیے دعا