حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 378 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 378

حیات بقاپوری 378 کے حق میں کلیم جیت گئے۔جس سے مجھے بھی فائدہ ہوا اور مجھے میرے حصہ کی کمپنسین یک مل گئی۔کچھ عرصہ کہ بعد محکمہ بحالیات نے اعلان کیا کہ جن سے تعلیم پانچ ہزار روپے سے کم پاس ہوئے ہیں وہ اپنی کتابیں تحصیل ہیڈ کواٹر میں جمع کرا کر نقد رقم لے سکتے ہیں۔اس پر میں نے بھی اپنی کمپنسیشن بک اپنے تحصیل ہیڈ کواٹر چنیوٹ میں داخل کروادی لیکن میرے بار بار چکر لگانے پر بھی مجھے کچھ نہ ملا کہ آپ کی کتاب نہیں مل رہی۔اسی ضمن میں کئی دفعہ لاہور ہیڈ کواٹر بھی آیا لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔میں نے حضرت مولانا بقا پوری صاحب کی خدمت میں دو دفعہ دعا کی درخواست کی۔دوسری دفعہ دعا کے نتیجہ میں حضرت مولانا بقا پوری نے فرمایا کہ آپ کے کیس میں کچھ ہورہا ہے۔اس کے بعد جب میں چینوٹ میں تحصیل ہیڈ کواٹر میں ہیڈ کلرک سے ملا تو اس نے خوشخبری سنائی کہ آپ کی کتاب مل گئی ہے اور مجھے ۳۱۴۹ روپے ملے۔الحمد الله محترم قمر سردار صاحب الفضل 11 اکتوبر 1996ء میں حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کی بابت تحریر فرماتے ہیں: ا۔ایک دفعہ آپ میرے کیریئر کے متعلق دعا کر رہے تھے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ کچھ عرصہ بعد میری تعیناتی کے سلسلے میں کچھ واقعات تسلسل کے ساتھ ہونگے۔پہلے مجھے پشاور میں پوسٹ کیا جائے گا اور اس کے بعد ایک نئے شہر میں جسکے اطراف میں سرگودہا کی طرز پر پہاڑیاں واقع ہونگی اور اس کے بعد کراچی۔اور اس طرح یہ سلسلہ مکمل ہوگا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ نیا شہر جسکے اطراف میں پہاڑیاں ہونگی اس کا نام وہ نہیں بتا سکے۔انہیں اتناعلم تھا کہ یہ شہر پاکستان میں ہے۔تقریباً سات سال کا عرصہ گزرنے کہ بعد ۱۹۶۶ء میں یہ سلسلہ شروع ہوا۔پہلے مجھے پشاور میں تعینات کیا گیا اسکے بعد میرا تبادلہ راولپنڈی ہو گیا جہاں میں چند ماہ رہا۔اسکے کہ بعد مجھے اسلام آباد بھیجا گیا اور آخر کار میرا تبادلہ کراچی ہو گیا۔اور یہ سب کچھ اسی طرح ہوا جس طرح کہ حضرت مولانا بقا پوری صاحب کو دکھایا گیا تھا۔ظاہر ہے کہ جو شہر پہاڑیوں والا دکھایا گیا تھا وہ اسلام آباد تھا ( غالبا یہ ۱۹۵۹ء کی بات تھی ) لیکن اس وقت تک اسلام آباد معرض وجود میں نہیں آیا تھا۔اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت کے حساب سے یہ بات کسی طرح سے بھی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی اور میں حیران تھا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔