حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 380 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 380

حیات بقا پوری 380 کی درخواست کی۔ہم دونوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔اور میں نے دیکھا کہ وہ نہایت انکساری اور جوش و خروش اور کامل یقین کے ساتھ مانگنے والوں کی طرح دعا کر رہے تھے۔دعا کے خاتمہ پر انہوں نے مجھے اطلاع دی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عربی زبان میں میری کامیابی کی اطلاع دی ہے۔لیکن اس میں سے میں صرف لفظ بشارت کو ہی سمجھ سکا کچھ مہینوں کے بعد میں اس انتخاب کے لیے ایک بہت بڑے لیول کے گورنمنٹ انٹرویو بورڈ کہ سامنے تیسری دفعہ پیش ہوا۔تھوڑی دیر بعد اس بورڈ کے چیئر مین نے ذراعت اور انڈسٹری کے متعلق مجھ سے ایک بہت مشکل اقتصادی سوال پوچھا۔میرا پتہ کٹ چکا تھا۔کیونکہ بلا تکلف میں اقرار کرتا ہوں کہ میں تو اس سوال کو ہی صحیح طور پر نہ سمجھ سکا تھا۔لیکن میں نے ہمت کر کے اس کا جواب دیا۔جو کہ میں جانتا تھا کہ سوال سے بہت بہٹ کر ہے اور یہ صر ف اندھیرے میں چھلانگ لگانے والی بات تھی۔میں اب خیال کر رہا تھا کہ میرا انٹرویو ختم کردیا جائے گا اور میرا کیس مستر د کر دیا جائے گا۔لیکن حضرت مولا نا بقا پوری صاحب کہ طفیل اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی دعاؤں کی منظوری کی وجہ سے میرا کیس میرے خیال کہ برعکس مختلف رنگ میں سمجھا گیا۔میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ چیئر مین صاحب میرے جواب سے بہت متاثر ہوئے۔اور مجھ سے پوچھا کہ کیا میں اس مضمون کا سب سے تازہ ترین امریکن تھیوری کی بات کر رہا ہوں۔لیکن میں جھوٹ تو نہیں بول سکتا تھا اس لیے میں صرف مسکرا کر چپ رہا۔جس کا مطلب کچھ بھی لیا جاسکتا تھا۔اس پر میرا انٹرویو تم کر دیا گیا۔اور مجھے بہت اچھے نمبر ملے۔اور آخر کار مجھے اس پول سروس کے لیے منتخب کر لیا گیا۔میں کبھی بھی اکنامکس کا طالب علم نہیں رہا اور اللہ تعالیٰ نے محض اس بزرگ ہستی کی دعاؤں کے نتیجہ میں اتنی بڑی کامیابی عطا کی۔ایک دفعہ جب میری تعیناتی ڈھا کہ میں تھی اور میں نے وہاں ابھی دو سال ہی مکمل کئے تھے ( جب کہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ عرصہ تین سال کا تھا) میری والدہ سخت بیمار ہو گئیں۔میں نے محسوس کیا کہ وہ چھ ماہ سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکیں گی۔میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ میں ان کی خدمت کے لیے ان کے پاس جا کر رہوں۔اس وقت ایسا اتفاق ہوا کے میرے سب سے بڑے افسر یعنی آڈیٹر جنرل آف پاکستان ڈھاکہ کے دورے پر آئے۔میں نے ان کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کیا اور درخواست کی کہ میرا تبادلہ کر دیا جائے۔انہوں نے میری درخواست حکومت کہ قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے رد کر دی۔کیونکہ حکومت کے قوانین اور ضابطوں کی رو سے مشرقی پاکستان میں قیام کی مدت کم از کم تین سال تھی ( یہ ۱۹۶۲ء کی بات ہے )۔مجھے اس بات سے سخت پریشانی ہوئی اور