حیاتِ بقاپوری — Page 371
حیات بقاپوری 371 تحریر فرماتے ہیں: محترم مولانا ابوا العطا صاحب جالندہری حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے گزشتہ سال اپنے سوانح زندگی کی پہلی قسط شائع فرمائی تھی۔اس سال جلسہ سالانہ کے موقعہ پر اس کی دوسری قسط شائع ہوئی۔جب یہ کتاب شائع ہوئی۔تو سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ مبصرہ العزیز نے ایک دن مسجد مبارک ربوہ میں خاکسار کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔کہ فلاں حوالہ جس کی ہمیں پچھلے دنوں بہت ضرورت تھی۔اور اتنے صاحبان حوالے نکالتے رہے۔لیکن حوالہ نہ ملا تھا۔آج اتفاقا مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کی کتاب یعنی حیات بقا پوری حصہ اول“ سے مل گیا۔حضور نے اس پر خوشنودی کا اظہار فرمایا۔اور کتاب میں درج شدہ اقتباسات کی تعریف فرمائی۔میں نے رسالہ حیات بقا پوری دیکھا ہے۔دوسرے حصہ میں محترم مصنف نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات سے ایسے اقتباسات درج کئے ہیں جو بہت مفید ہیں۔اور جن کے ذریعہ سے بہت سے مسائل کا تصفیہ ہو جاتا ہے۔جناب مولوی بقا پوری صاحب نے اکثر ایسے ہی اقتباس درج کئے ہیں۔جن کا ذکر اس مجلس میں ہوا جس میں آپ موجود ہوتے تھے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مصنف صاحب کو جزائے خیر دے اور ان کی عمر میں برکت ڈالے اور اس رسالہ کو نافع الناس بنائے۔آمین ثم آمین محمد شفیق قیصر بسم الله الرحمن الرحيم متعلم جامعہ احمد بید ربوہ مخدومی محترمی حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری دام معالیکم