حیاتِ بقاپوری — Page 370
حیات بقاپوری 370 حضرت مولانا کے برادر زادہ مکرم مولوی محمد حفیظ صاحب بقا پوری مولوی فاضل خطیب و واعظ مقامی در ویش قادیان تحریر فرماتے ہیں: میں اپنے مرحوم باپ کو نہ دیکھ سکا۔جب بھی ہوش سنبھالا۔آپ کا سایہ اپنے آپ پر باپ کی طرح دیکھا۔اور حقیقت یہی ہے۔کہ میرے دل میں آپ کی محبت ایسی ہے۔جو ایک حقیقی باپ سے ایک بیٹے کو ہوتی ہے۔میری پیاری اور مشفقہ چی صاحبہ جن کا نام لینے سے فرحت کا جذبہ میرے دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔میرے لئے ہمیشہ ہی مہربان والدہ کی قائم مقام رہیں۔ان کی محبت بھری نگاہیں اور شفقت سے لبریز تکلم میرے لئے خوشی اور انبساط کا موجب رہا۔میری ہر دم آپ دونوں بزرگوں کیلئے یہی دعائیں ہیں۔کہ آپ دونوں کا سایہ میرے مسکین سر پر تادیر قائم رہے۔آمین میرے پیارے مہربان چا! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔کہ آپ کی وصیت کو میں اور میری اولا دسر آنکھوں پر رکھیں گے۔احمدیت جسے آپ ہمارے لئے اپنے خاندان میں بڑی مشکلات جھیل کر لائے ہیں ہمیشہ ہمیش ہمارے لئے جان سے زیادہ عزیز رہے گی۔اور اسی ہادی کامل کی غلامی میں ہماری زندگی اور موت ہوگی۔جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین اور لائی ہوئی کتاب کو زندہ کرنے کیلئے عین وقت پر مبعوث فرمایا گیا ہے۔وبالله التوفيق ولا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم میں اور میری اہلیہ جب بھی تنہائی میں آپ کا اور محترمہ بچی صاحبہ کا ذکر کرتے ہیں۔تو عجیب وجد اور سرور ہمارے دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے حضور اس نعمت الہی کا شکر ادا کرتے ہیں۔