حیاتِ بقاپوری — Page 372
حیات بقا پوری 372 السلام عليكم ورحمة الله و بركاته مجھے مکرم معین الدین صاحب کے پاس جانے کا اکثر اتفاق ہوتا رہتا ہے۔چونکہ مکرم پیر صاحب آپ کے پاس بھی آتے جاتے ہیں۔باتوں باتوں میں آپ کا ذکر بھی آجاتا ہے۔وقتا فوقتا انہوں نے مجھ سے چند ایسی باتیں بھی بیان کی ہیں۔جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں اگر حیات بقا پوری کے کسی حصہ میں شائع ہو جائیں تو لوگوں کے از دیا ایمان کا موجب ہو سکتی ہیں۔اس لئے میں مختصراً ان کا بیان کرتا ہوں۔ا۔مجھ سے مکرم پیر معین الدین صاحب نے بیاں کیا کہ جب خلاصہ تفسیر کبیر کی پہلی جلد کا مسودہ کا تب کو دیا گیا تو اس کے بعد کئی دن تک وہ بالکل لا پتہ ہو گیا۔اس کی وجہ سے بہت فکر ہوئی۔حضرت مولوی بقا پوری صاحب کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کیا گیا۔آپ نے دعا کے بعد بتلایا کہ تفقد الطیر الہام ہوا ہے۔جس کے معنے ہیں جستجو کرنے سے وہ مل جائے گا۔اس کے بعد جلد ہی کا تب کا پتہ بھی چل گیا۔اسے بعض لوگوں نے تنبیہہ بھی کی اور اس کے بعد اس کے ہاتھ سے خاطر خواہ طور پر کام بھی ہو گیا۔ایک دفعہ میرے خلاف بعض آدمیوں نے محض حسد کی بنا پر ایک درخواست دے رکھی تھی۔جس وجہ سے مجھے بہت بڑا نقصان پہنچ سکتا تھا۔میں نے حضرت مولوی بقا پوری صاحب کو دعا کے لئے کہا اور یہ بھی کہا کہ دعا کریں کہ مجھے ان کاموں کے لئے حکام کے پاس نہ جانا پڑے۔کچھ عرصہ دعا کے بعد حضرت مولوی صاحب نے بذریعہ خط اطلاع دی کہ هباء منثورا الہام ہوا ہے۔یعنی حاسد نا کام ونامراد ہو جائیں گے ( خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ آپ نے مجھ سے ہی محترم پیر صاحب کو لکھوایا تھا جبکہ وہ ربوہ سے باہر تشریف لے گئے ہوئے تھے )۔اس کے بعد فی الواقع وہ درخواست صباء منشور آہی ہوگئی اور خدا تعالیٰ کے محض فضل سے مجھے دفاتر میں نہیں جانا پڑا۔آپ کے کچھ الہام جو متقبل کے متعلق نہ روک نہ ٹوک“ اور اس کتاب کے مختلف زبانوں میں تراجم کے متعلق الہام "سات میں ہو جائے" بھی ہے۔اس قسم کی بعض اور باتیں بھی ہیں۔لیکن اختصار کے مد نظر انہیں لکھا نہیں جا رہا۔یہ خط میں نے لکھ کر مکرم پیر صاحب کو نادیا ہے۔تا کہ اگر کوئی بات سمجھنے میں مجھ سے غلطی ہوئی ہو تو اس کی تصحیح ہو جائے۔چنانچہ پیر صاحب موصوف نے اس خط کوشن کر اس امر کی تصدیق فرمائی ہے۔کہ یہ تمام باتیں اسی طرح ہوئی تھیں۔یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ واسلام کے فیض سے کئی لوگ الہام وکشوف سے