حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 344 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 344

حیات بقاپوری 344۔پورے سال کے بعد ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں ہو کر ایک ہی باپ کے بیٹے بن گئے۔فالحمد للہ علی ذالک۔اس عہد اخوت پر بھی آج قریباً نصف صدی کا زمانہ گذرتا ہے اور ہر دن اس رشتہ کو مضبوط اور مستحکم ہی نہیں بلکہ محبت اور خلوص کے جذبات کو ابھارتا رہتا ہے۔میں نے جب یہ معلوم کیا کہ حضرت بقا پوری کا تذکرہ حیات شائع ہو رہا ہے تو میں نے گوارا نہ کیا کہ ان تعلقات کی سرگزشت کو بقائے دوام کے دربار میں چند سطروں کے ذریعہ محفوظ کرنے سے محروم رہوں۔پس اسی عہد اخوت کے تاثرات کا اظہار ان سطور میں کرنا چاہتا ہوں۔حضرت بقا پوری سے میرا ابتدائی تعلق دنیا کے عرفی اسباب سے بالکل مختلف تھا۔ان کے علمی ذوق کی وجہ سے ایک جذب ان کی طرف ہوا۔اور میری زندگی کا اس عہد میں مجاہدانہ رنگ ( جو عیسائیوں اور آریوں سے مناظرات کرنا تھا) ان کو میرے قریب کرنے کا باعث ہوا۔انہوں نے ایک نو عمر چھوکرے کو دلیرانہ عیسائیوں سے مباحثات کرتے دیکھا۔اور میں نے ایک ایسے طالب علم کو دیکھا جس کے چہرہ پر اس عمر میں طہارت نفس کی روشنی نمایاں تھی۔ان کی متبسم صورت اور طبیعت میں فروتنی و انکساری کے ساتھ مومنانہ جرات کو نمایاں دیکھا۔میرے دماغ کی بناوٹ اس قسم کی ہے کہ میں اپنے مشاہدات سے علمی ذوق کے تاثرات کی وسعت میں چلا جاتا ہوں۔لودھیا نہ اس وقت علوم عربیہ کا ایک مرکز تھا اور مختلف مقامات کے طالب علم وہاں تعلیم پاتے تھے۔میں خود بھی مولوی محمد اشفاق صاحب کے مدرسہ میں ابتدائی کتابیں پڑھتا تھا اور طالب علموں کے مذاق اور حالات سے واقف تھا۔مگر ان دونوں بھائیوں میں عموماً اور حضرت بقا پوری میں خصوصاً در جوانی تو به کردن شیوه پیغمبری است کے آثار دیکھتا تھا۔آپ کے بڑے بھائی اپنی دماغی تربیت کی طرف زیادہ متوجہ تھے۔مگر اس کے ساتھ وہ عملی اسلام کے مخلصانہ پابند تھے۔اور حضرت بقا پوری اپنی علمی موشگافیوں سے زیادہ اپنی قلبی قوتوں کی ترقی کی طرف متوجہ تھے۔جہاں تک میں نے اس وقت ان کو سمجھا تھا اور زمانہ کے ایک لمبے دور نے مجھے اس فراست میں صحیح ثابت کیا وہ یہ تھا کہ حضرت بقا پوری کے مد نظر یہ تھا۔ایکه خواندی حکمت یونانیاں حکمت روحانیاں را هم بخواں حکمت یونانیاں کے مقابلہ میں حکمت ایمانیاں کو ترجیح دیتے تھے۔اور اس عہد کے نصاب تعلیم میں ست