حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 343 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 343

حیات بقا پوری 343 غرض یہ اول مبلغ ۱۹۲۳ء میں سندھ تشریف لائے تو اس وقت سندھی احمدیوں کی صرف ایک انجمن صوبہ ڈیرہ کی تھی۔جس کے صرف دو چار نمبر تھے۔اب بفصل تعالٰی حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعا اور برکت سے کتنی انجمنیں ہیں اور قریباً ۵۰ دیہات و شہروں میں احمدی جماعتیں اور افراد پائے جاتے ہیں۔علاوہ اس کے اکثر غیر احمدی اب قریباً سلسلہ کے مصدق دشنا خواں پائے جاتے ہیں۔( منقول از اخبار الفضل ۳۱ اگست ۱۹۲۸ء) تذکرہ بقا پوری از مولانا یعقوب علی عرفانی صاحب مجھے ہمیشہ سے یہ خواہش رہی کہ جماعت صحابہ کے ان بزرگوں کے تذکرے شائع ہو جائیں جنہوں نے سلسلہ کی ابتداء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں روحانی تربیت حاصل کی۔تاکہ ان کی عملی زندگی آنے والی نسلوں کے قلوب میں نیک جذبات اور طہارت نفس کی استعدادوں کو حرکت دے۔پھر حصوصیت کے ساتھ ان بھائیوں کے تذکروں کی اشاعت کا جوش کبھی میرے قلب میں سرد نہیں ہوا جن سے مجھ کو خاص طور پر نہ صرف سلسلہ میں آنے پر تعلقات اخوت قائم ہوئے بلکہ اس سے پہلے بھی پہلے ایام طالب علمی میں ان سے تعارف ہوا۔اور وہ تعارف ابتدائی منازل میں سے گذر کر اخوت کا رنگ اختیار کر گیا۔اُن احباب میں ایک حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری سلمہ اللہ تعالیٰ ہیں۔جن سے اس وقت تعارف ہوا جب کہ وہ لدھیانہ میں علوم عربی کی تحصیل میں مصروف تھے۔اور ان کے برادر معظم حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب بھی ان کے ساتھ تھے۔اس پر آج ۶۴ سال کا زمانہ گذرتا ہے۔لیل ونہار اور ماہ وسال گذرتے گئے اور (۱۸۹ء کے آغاز میں ہم جدا ہو گئے۔بظاہر یہ توقع نہ تھی کہ ہم پھر بھی مل سکیں گے۔مگر جیسا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں أَلَا زَوَاجِ جُنودٌ مُجَندَةٌ ذکر آیا ہے