حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 345 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 345

حیات بقاپوری 345 طالب علموں میں سے تو نہ تھے مگر ان کا مقصد جو ان کے عمل سے میں دیکھتا تھا روحانیت میں ترقی کرنا تھا۔اور یہی تڑپ آخر انہیں اس چشمہ پر لے آئی جہاں منہاج نبوت پر روحانی علوم کی تربیت کا سلسلہ جاری تھا۔میں جو کچھ لکھ رہا ہوں وہ اپنے صحیح افکار کے رنگ میں لکھ رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل ورحم سے ایک ایسا قلب عطا فرمایا ہے جو نہ کسی انسان سے مرعوب ہوتا ہے نہ خوشامد کر سکتا ہے۔ہاں اظہار حقیقت سے مجھے خوشی ہوتی ہے۔اس لیے حضرت بقا پوری ایک درویش انسان کے متعلق میرا بیان ایک حقیقت ہے اور اس حقیقت کا ثبوت آج سے ۲۸ برس اس وقت پیش ہوا جب یہ نو جوان عالم 1900ء میں قادیان آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کی۔تو اس نے دوسرے مخالف الرائے علماء کے خلاف حضرت اقدس سے ان مسائل کے متعلق کچھ نہ پوچھا جو عام طور پر اس وقت زیر بحث تھے۔وہ وفات مسیح پر بحث نہیں کرتا وہ آپ کے دعاوی کے متعلق دلائل نہیں پوچھتا۔بلکہ اس نے جو سوالات آپ سے کئے وہ اس کی سیرت کے سمجھنے کے لیے بنیادی ماخذ ہیں۔میں نے قادیان میں مخالف الرائے مولویوں میں سے بعض کو آتے دیکھا وہ جب آئے تو انہوں نے اپنے علم کا مظاہرہ مسائل متنازعہ پر کج بحثی سے کیا۔ایک مرتبہ ایک شخص آیا اور اس نے اپنے آپ کو علماء کا نمائندہ ظاہر کیا اور حضرت اقدس سے نہایت گستاخی اور کج بحثی سے گفتگو کر رہا تھا۔اس کے طریق خطاب پر حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا۔قریب تھا کہ وہ اس کا گلا دبا دیتے مگر حضرت اقدس نے فرمایا یہ تو ہمارے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں آپ ان سے یہ توقع نہیں کر سکتے جو آپ کے دل میں میری نسبت ہے۔اس لیے اس کو بُرا نہ منائیں۔لیکن میں اُس وقت بھی اور آج بھی جب اس مجلس کا تصور کرتا ہوں اور جس کے حالات الحکم میں شائع کر دئے تھے تو مجھے حضرت بقا پوری کی سیرت کا صحیح نقشہ معلوم ہوتا ہے۔انہوں نے حضرت اقدس سے جو سوالات کئے وہ اصلاح نفس اور روحانی ترقی کے ذرائع معلوم کرنے کے لیے اور حضرت صاحب کے جواب پر عام علماء سوء کی طرح رد و قدح نہیں کی۔بلکہ پوچھتے گئے اور جواب پاتے گئے۔میرا یقین ہے کہ اس ملاقات اول کا ذکر اس تذکرہ میں ہوگا۔قارئین کرام جب بھی اسے پڑھیں گے تو میرے ساتھ اتفاق کریں گے۔اور وہ ایک ایسے عالم کا تصور کریں گے جو حقیقی معنوں میں قرآن مجید کے ارشاد کے موافق عالم ہیں۔کہ عالم وہ ہیں جن کے قلوب میں اللہ تعالیٰ کی خشیت ہو۔غرض حضرت بقا پوری کے متعلق جو تصور اپنی زمانہ طالب علمی کے ملاقات کے وقت کیا تھا میں نے دیکھا کہ فارغ التحصیل ہو کر وہی مقصد پیش نظر ہے۔غرض ان میں یہ تڑپ تھی کہ وہ اس حقیقت کو پالیں جو پیدائش