حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 203 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 203

حیات بقاپوری نقل خط چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود السلام عليكم ورحمته الله و بركاته 203 میرے چھوٹے بھائی عزیزم میجر شریف احمد باجوہ ایڈوکیٹ نائب امیر جماعت احمد یہ ضلع لائل پور کا لاہور سے خط آیا کہ آنکھ میں بڑی سخت تکلیف ہے۔لائل پور میں علاج کی کوشش کی گئی لیکن آنکھ کی تکلیف بڑھتی گئی۔اس لئے لاہور علاج کیلئے آیا ہوں۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ اور بزگان کی خدمت میں دعا کیلئے عرض کریں۔ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ علاج پر ایک ماہ لگے گا۔بندہ نے حضور انور کی خدمت میں لکھا۔مسجد مبارک میں دعا کی تحریک کروائی۔اور جناب مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کی خدمت میں جب وہ خود غریب خانہ پر تشریف لائے ، دعا کے لئے عرض کیا۔آپ کو بتایا کہ ڈاکٹر صاحب ایک ماہ کی مدت بتاتے ہیں۔جناب مولوی صاحب نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کرونگا کہ اپنے فضل سے اس مدت کو کم کر دے۔آپ نے اس وقت بھی ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی۔اتفاق سے مجھے سلسلہ کے لئے لاہور جانا پڑا۔معلوم ہوا کہ اب ڈاکٹر صاحب کا خیال ہے کہ تین چار ماہ لگ جائیں گے۔مختلف ایکسریز لئے گئے ہیں اور تحقیق ہو رہی ہے کہ آنکھ کو Infection کہاں سے ہو گئی۔لیکن ۸ مئی کی شام کو جو ڈاکٹر صاحب نے دیکھا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے بہاری تو بڑھتی معلوم ہوتی تھی۔اب رک گئی ہے اور نمایاں طور پر اصلاح کی طرف جارہی ہے۔9 مئی کی گاڑی پر بندہ واپس آیا۔۱۰ مئی کی صبح کو دفتر میں جناب مولوی صاحب تشریف لائے اور بتایا کہ شریف احمد کیلئے دعا کی ہے۔میں نے دریافت کیا، پھر کیا معلوم ہوا؟ فرمایا، بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے میں صحت حاصل ہو جائے گی۔الحمد للہ ! میں نے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔اور جناب مولوی صاحب کو بتایا کہ کس طرح ڈاکٹر تین چار ماہ کا عرصہ بتاتے تھے اور پھر یکا یک خدا تعالیٰ کے فضل سے اصلاح شروع ہو گئی۔اور اب امید ہے کہ انشاء اللہ اس بشارت کے مطابق آں عزیز کو صحت حاصل ہوگی۔خاکسار مشتاق احمد باجوہ ۱۵ مئی ۱۹۵۶ء والسلام! ۱۴۳۔مجھے رمضان المبارک ۱۳۷۵ھ کے آخری عشرہ میں خصوصیت سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے متعلق دعائیں کرنے کی توفیق ملی۔۹/۵/۵۶ کو چونکہ قمر الانبیاء حضرت صاجزادہ میاں بشیر احمد صاحب مدظلہ کا والا نامہ موصول ہوا۔جس میں اپنے لئے دعائے خاص میں شرکت کا شرف مجھے بھی بخشا گیا۔چنانچہ ۱۰ مئی ۱۹۵۶ء کی رات کو جو ۲۷۔رمضان المبارک کی رات تھی جب میں حضرت موصوف کے لئے خاص طور پر دعا کر رہا تھا تو زبان پر جاری ہوا: فتاح عليم