حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 202 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 202

حیات بقاپوری 202 پرچے اتفاق سے گم ہو گئے تھے۔گھبرائی ہوئی میرے پاس آئی، اور دعا کے لئے کہا۔میں نے دعا کی، اثناء دعا القاء ہوا: وتفقد الطير اس کو اطلاع دے کر کہا گیا کہ پرچے تلاش کرو۔انشاء اللہ تعالیٰ مل جائیں گے۔اس پر تعجب ہو کر کہنے لگی، کہ اگر میرے پر چل گئے تو یہ معجزانہ نشان ہی ہوگا۔اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھو ۱۷٫۴٫۵۶ کویوں واقعہ ہوا کہ ایک عورت پرچوں والا بکس لا کر اس کو گھر دے گئی۔فالحمد للہ علی ذالک۔۱۴۱ ۱۰ اپریل ۱۹۵۶ء کی رات کو خواب میں ایک نظارہ دکھایا گیا۔پہلے ایک آواز آئی کہ: تیرے پر سوفضل ہیں پھر دیکھتا ہوں کہ ایک میدان ہے چورس کھیت کے کھیتوں کی طرح۔اس میں سینکڑوں کی تعداد میں احمد یہ جماعتیں جو مختلف اطراف سے آئی ہیں، سفید لباس پنے بیٹے ہوتی ہیں گویا عیدکی نماز پڑھنے کے لئے آئی ہیں۔اور حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بھی عمدہ سفید لباس زیب تن فرمائے ہوئے تشریف فرما ہیں۔دیکھا کہ مکرم حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وعظ فرمارہے ہیں۔نصیحت کرتے ہوئے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ارشادات کا بھی حوالہ دیتے جاتے ہیں۔اثناء وعظ میں صاجزادہ میاں ناصر احمد صاحب کی شان میں بھی کچھ کلمات کہتے اور ان کی اطاعت کرنیکا بھی ذکر کرتے ہیں۔غرض ایک بہت مبارک اجتماع اور بڑی خوشی کا ہجوم تھا۔۱۴۲- ۶ مئی ۱۹۵۶ء کا واقعہ ہے کہ مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے اپنے چھوٹے بھائی چوہدری شریف احمد صاحب کی جلد صحت یابی کیلئے مجھے دعا کے لئے کہا۔وہ آنکھ میں چوٹ آجانے کی وجہ سے سخت تکلیف میں تھے۔ڈاکٹر صحت یابی کی مدت کم از کم ایک ماہ بتاتے تھے۔میں نے اس وقت بھی دعا کی اور پھر رات کو بھی خاص طور پر دعا کرنے کا موقعہ میسر آیا۔الحمدللہ! تیر نشانے پر لگا۔اثناء دعا مجھے معلوم ہوا کہ عزیز شریف احمد خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک ہفتہ کے اندر صحت یاب ہو جائیگا۔میں یہ خوش خبری سنانے کے لئے صبح باجوہ صاحب کے گھر پر گیا تو معلوم ہوا کہ موصوف سلسلہ کے کام کے لئے لاہور تشریف لے گئے ہیں۔واپسی پر میں نے ان کو بتلایا۔جس کا ذکر مکرم باجوہ صاحب اپنے ایک خط میں بھی فرماتے ہیں: