حیاتِ بقاپوری — Page 187
حیات بقا پوری 187 ۱۰۰ ۲ اکتوبر ۱۹۴۰ ء دیکھا کہ محمد اسمعیل بقا پوری وائسرائے کی اسمبلی کے ممبروں میں بصورت ملازمت شامل ہے۔اُسوقت میں نے اسکی ملازمت کے لئے دعا کی تھی۔الحمد للہ کہ عزیز محمد اسمعیل نومبر ۱۹۴۰ء میں ملازم ہو گیا۔۱۰۱ - ۱۰ اکتوبر ۱۹۴۰ ء دیکھا کہ محمد اسحاق بقا پوری کو میں نے محنت کرنے کیلئے سختی سے ڈانٹا ہے اور مارا بھی ہے۔وہ کہتا ہے اگر سختی کرو گے تو میں محنت نہیں کرونگا یا کہا کہ میں امتحان میں پاس نہیں ہوں گا۔میں کہتا ہوں پاس نہ ہو گے تو نہ ہونا۔چونکہ یہ رویاء منذ تھی میں نے دعا کی کہ خدا اس منذر خواب کو مبشر کر دے اور میں نے دعا کرنے کے بعد قرآن شریف سے فال نکالی تو یہ آیت نکلی ولئن رددت الى ربى لاجدن خير منها منقلباً (۳۷:۱۸) جس سے میں نے سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس منذر خواب کو مبشر بنا دیا ہے۔الحمد للہ کہ سالانہ امتحان میں عزیز محمد اسحاق بقا پوری دوئم نمبر پر پاس ہو گیا۔۱۰۲ ۱۳ مئی ۱۹۴۲ء دیکھا میں کسی کو کہتا ہوں میرے لڑکوں محمد اسمعیل بقا پوری اور محمد اسحاق بقا پوری نے پاس ہو جاتا ہے۔حضرت صاحب بھی دعا کریں تو بابرکت ہے۔میں نے دعا میں کہا تھا کہ یا اللہ دونوں لڑکے اول دوستم نمبر پر پاس ہوں۔الحمد للہ کہ لڑکے دونوں پاس ہو گئے۔لیکن حضرت صاحب سے دعا نہ کر اسکا اس لئے اول دوئم نہ آئے۔۱۰۳ ۶ اکتوبر ۱۹۴۶ اردیکھا ایک جگہ تبلیغ کے لئے مقر رہوں۔بعد نماز عشاء لیکچر دیگر جس میں مرد اور مستورات تھیں چارپائی پر سو گیا ہوں۔فجر کی نماز ادا ہونے کے بعد ایک مقتدی نے کہا کہ حق کو جلدی قبول کر لینا چاہئیے۔حافظ مبارک احمد صاحب میرے طرف اشارہ کر کے کہتے ہیں مولوی صاحب اس پر روشنی ڈالینگے۔میں آیت شريف يا ايها الذين امنوا استجيبوا لله وللرسول اذا دعاكم لما يحييكم۔واعلموا ان الله يحول بين المرء و قلبه (۲۵:۸) پڑھکر سُنائی۔لوگ جانے لگے تو میں نے کہا دس پندرہ منٹ سے زیادہ بیان نہیں کرونگا۔سب مقندی ایک چبوترہ پر بیٹھ گئے۔میں نے کہا۔اول تو قرآنی حکم ہے دیر کرنے سے غیرت خداوندی حائل ہو جاتی ہے اور حق قبول کر نیکی تو فیق ہی نہیں ملتی۔دوئم اگر قبول کر بھی لے تو جتنی دیر سے انسان قبول کرے گا