حیاتِ بقاپوری — Page 188
حیات بقاپوری 188 ترقی میں کی ہوگی۔سو تم لوگوں نے اس کی وجہ سے قبول حق نہ کیا اُن کی محرومی کا گناہ اس پر ہوگا۔پھر نقشہ بدل گیا۔۱۰۴ - ۱۰ اگست ۱۹۵۰ء دیکھا میں اپنی بیوی کو کہتا ہوں بسم الله مجرها ومرسها۔اُس وقت میں نے ماڈل ٹاون لاہور میں اُن کے ربوہ جانے کیلئے کسی ساتھی کے ملنے کیلئے دعا کی تھی۔چنانچہ۱۲/۸/۵۰ ربوہ جانے کے لئے ایک نیک بی بی کا ساتھ بن گیا۔۱۰۵ - ۱۸۔دسمبر ۱۹۴۳ ء دیکھا میں اور میرے بڑے بھائی حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب مرحوم فوج میں بھر تی ہو کر ایک چار پائی پر لیٹے ہوئے ہیں۔سورج چڑھ کر وقت ضحی پر چمک رہا ہے۔میں اُٹھ کر آگیا ہوں اور برادرم مرحوم وہیں رہے ہیں۔۱۹۲۴ء میں برادرم موصوف ملکانہ مہم میں تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے۔اور ایک عرصے تک وہاں اچھا کام کرتے رہے۔وہیں بیمار ہوئے اور اپنے وطن بقا پور میں فوت ہو گئے۔اور میں ۱۹۲۳ء میں انسداد ارتداد کے سلسلے میں سندھ بھیجا گیا اور ۱۹۲۸ء تک سندھ میں تبلیغ کا کام کرتا رہا۔یہ اس رویاء کی تعبیر ہے۔۱۰۶ مئی ۱۹۲۸ء کا واقعہ ہے۔جبکہ میں جماعت احمد یہ چک ۹۹۔شمالی علاقہ سرگودھا میں تھا۔چوہدری غلام رسول صاحب بسرا نے مجھے اپنی زمین کے مقدمے میں کامیابی کے لئے دعا کرنے کو کہا۔میں نے دعا کی، تو الہام ہوا: ننجیک۔دس ہاڑ یعنی دس بار کو تمہیں فتح ہوگی۔جس کی اطلاع اسی وقت ان کو کر دی گئی۔اور خیال یہی تھا کہ دس ہاڑ کو اسی سال فتح ہوگی۔لیکن مقدمہ نے اتنا طول پکڑا کہ ایک سال کا عرصہ لگ گیا۔جب دوسرے سال کا ہاڑ کا مہینہ آیا۔تو عین دس تاریخ کو ان کے مقدمے کا فیصلہ سنادیا گیا۔اور انہیں کے حق میں فتح ہوئی۔چنانچہ ایک خط میں چوہدری صاحب اس واقعہ کی یاد دہانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں: