حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 186 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 186

حیات بقاپوری 186 میں نے زیادہ توجہ کی تو دوبارہ میں نے پندرہ جولائی کو دو دفعہ آیت مذکورہ موئے الفاظ میں لکھی ہوئی دیکھی۔صبح اُن کو میں نے تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے تم اعلیٰ نمبروں میں پاس ہو گے۔چنانچہ عزیز اعلیٰ نمبروں میں پاس ہو گیا۔الحمد للہ علی ذالک۔۹۸ - ۲۱ جولائی ۱۹۵۴ی عزیز مکرم مولوی نورالدین صاحب منیر بی۔اے۔میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں ایک خطر ناک مصیبت میں مبتلا ہو گیا ہوں۔آپ میرے لئے دعا کریں۔میں اُن کے لئے دعا کر رہا تھا کہ مجھے یہ آواز آئی کہ: اساں چھڑوا دینا ہو یا کہ عزیز مذکور کو اس سے اطلاع دی گئی۔الحمدللہ کہ عزیز کو اس مصیبت سے نجات ہوئی جس کا ذکر وہ اپنے مکتوب ذیل میں کرتے ہیں: مجھ پر ایک مصیبت آپڑی تھی جس میں خطرہ تھا کہ مجھے حوالہ پولیس کر دیا جائیگا۔حالانکہ میں بے گناہ تھا۔میرے دل میں اضطراب کا ایک دریا موجیں مار رہا تھا اور اسی کیفیت میں میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی بریت کے لئے دعا کی۔مجھے بزرگان سلسلہ کی خدمت میں بھی دعا کے لئے درخواست کرنے کی طرف توجہ ہوئی۔چنانچہ میں نے مخدومی حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کی خدمت میں بھی ۲۷۷٫۵۴ کی شام کو تفصیلی واقعہ بیان کر کے دعا کیلئے عرض کیا۔مولوی صاحب موصوف نے مجھے ایک رقعہ لکھ کر دیا جو میرے پاس موجود ہے۔کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اطلاع دی ہے کہ اساں چھڑوا دینا ہو یا کہ یعنی ہم اس کے بری کر دیں گے چنانچہ انہوں نے مجھے تسلی دی کہ آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔بعد میں واقعات کچھ اس طرح پلٹا کھا گئے کہ مجھے الزام سے بری قرار دیا گیا۔الحمد للہ علی ذالک" (نورالدین منیر) ۹۹ - ۱۶۔مارچ ۱۹۳۹ ء دیکھا کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے میرے واسطے موٹر بھیجی ہے۔میں اس پر سوار ہو کر جہاں جانا تھا گیا ہوں۔اُسوقت میں نے نماز تہجد کے بعد عزیز محمد اسمعیل کی ملازمت کیو واسطے دعا کی تھی۔الحمد للہ کہ نومبر ۱۹۴۰ء کو چوہدری صاحب کے دفتر دہلی میں ملازمت مل گئی۔