حیاتِ بقاپوری — Page 178
حیات بقاپوری 178 مکرمی محترمی حضرت بقا پوری صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، آپ کا گرامی نام مل گیا تھا۔اللہتعالیٰ کا احسان ہے کہ آپ کی دعا سے اس نے ہمارا گاؤں بیچا محمد شریف وکیل منٹگمری ۲۷ اکتوبر ۱۹۵۵ء ۷۶ ۲۵ مارچ ۱۹۵۰ء کو دیکھا۔مولا بخش صاحب باور چی مجھے کہتے ہیں کہ نواب عبداللہ خان صاحب نے کہا ہے اپنا نام لکھ کر بھیج دو۔انہوں نے ناموں کی فہرست کل صبح منگوائی ہے۔میں خیال کرتا ہوں کہ مجھے نام بھیجنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ میں نواب صاحب سے کل خود ملاقات کر آیا ہوں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نواب صاحب نے فہرست انعام دینے کے لیے منگوائی ہے۔یہ خواب اس طرح پوری ہوئی کہ اس کے چند دن بعد جب میں اُن کی مزاج پرسی کے لیے گیا تو آپ نے مجھے ۱۵ روپے دیئے۔فجز اہم اللہ تعالیٰ ۷۷ ۵ فروری ۱۹۵۰ء کو دیکھا میں درس دے رہا ہوں۔خان صاحب فرزند علی صاحب بھی کھڑے سُن رہے ہیں۔میں نے اس طرح درس دیا ہے کہ نماز سب سے بڑی عبادت ہے پھر زکواۃ ہے۔آج کل زکوۃ ایک اعلیٰ عبادت ہے۔اور زکوۃ کے علاوہ چندہ ہے اور جب تک یہ چندہ نہ دیا جائے نماز میں خشوع حضوع پیدا نہیں ہوتا۔جس طرح نماز کے لیے وضو ضروری ہے اسی طرح زکوۃ کے لیے چندہ ضروری ہے۔۷۸ حاجی عبد الکریم صاحب کراچی والے جو ایک مخلص احمدی ہیں جن دنوں سکھر میں ہیڈ کلرک تھے۔ایک دفعہ میں دورہ کرتے ہوئے اُن کے پاس آیا تو وہ بہت تشویش کی حالت میں گھر سے باہر میرے ملنے کے لیے نکلے، دریافت کرنے پر انہوں نے کہا۔ابھی ابھی میری بیوی کو نرس دیکھ کر گئی ہے اس کو دردزہ شروع ہے۔نرس کہہ گئی ہے اس کا کوئی علاج نہیں یہ درد اسی طرح ہوتا رہے گا۔اسی وقت اللہ تعالیٰ کی تحریک سے میں نے کہا ایک گلاس میں پانی لا و جتنا کہ مریضہ پی سکے تاکہ میں اُس پر دم کر دوں اور اللہ تعالیٰ کے دروازہ سے امید ہے کہ شفا ہوگی۔اور ڈاکٹری علم طقی ہے اس پر اتنا یقین نہیں کرنا چاہیے۔چنانچہ وہ شیشہ کے گلاس میں پانی لے آئے۔میں نے اس پر بڑی توجہ اور تضرع سے سورۃ فاتحہ اور دوسری چند دعائیں پڑھ کر دے دیا۔ان کا بیان ہے کہ ابھی گلاس کا سارا پانی نہ پیا گیا تھا کہ درد جاتا رہا۔اور دو دن تک در دنہ ہوا۔تیسرے روز در دزہ ہوا اور صحیح سلامت بچہ پیدا ہوگیا۔الحمد اللہ تعالیٰ