حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 179 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 179

حیات بقاپوری اوّلاً وآخراً ظاهراً وباطناً له الثناء والمجد والكبرياء بيده الخير وَهُوَ عَلى كُلّ شَيْءٍ قَدِير۔179 ۷۹۔ڈاکٹر محمد عبد اللہ صاحب شفا میڈیکو مارکیٹ روڈ۔نواب شاہ سندھ۔۔۔۔۔۔ایک خط میں لکھتے ہیں: آخر میں ایک واقعہ کا ذکر کرتا ہوں جو معجزہ کا رنگ رکھتا ہے۔آپ کو یاد ہو گا کہ میں نے دو سال قبل ایک شخص شیخ اقبال کے متعلق دعا کے لیے عرض کیا تھا کہ یہ شخص میرے برخلاف کوشش کر رہا ہے۔آپ نے بعد دعا فرمایا تھا کہ اس پر ادبار آئے گا۔چنانچہ اس کے ایک ماہ بعد اس کا جوان لڑکا بندوق کی گولی لگنے سے فوت ہو گیا تھا۔اب دو ماہ قبل میں نے آپ کی خدمت میں پھر اسی شیخ اقبال کے متعلق عرض کیا تھا کہ وہ اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتا۔آپ نے بعد دعا فرمایا تھا کہ اس کو تہہ کر دی جاوے۔یعنی آپ کی طرف سے۔اگر وہ باز نہ آیا تو اس کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔چنانچہ کل خبر آئی ہے کہ شیخ اقبال خود موٹر کار چلا رہا تھا کہ راستہ میں مکر ہوگئی اور موقعہ پر فوت ہو گیا اور باقی آدمی بچ گئے۔اس نے شراب پی ہوئی تھی۔یہ کس قدر عظیم الشان نشان ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے قبولیت دعا کا کھلا کھلا ثبوت۔آپ کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالی آپ کو بی اور صحت والی عمر عطا فرمادے۔تا کہ میرے جیسے گنہ گار آپ کی دعاؤں سے متواتر مستفید ہوتے رہیں۔- مئی ۱۹۴۲ء کو خاکسار نے رویا میں دیکھا کہ شیخ محمدعبداللہ صاحب ( جو سپلائی ڈیپارٹمنٹ گورنمنٹ آف انڈیا نیودہلی میں اسٹنٹ سیکرٹری مقرر ہوئے تھے) کو چھنگلی پر چھونے کاٹا ہے۔میں کہتا ہوں کہ کوئی فکر کی بات نہیں چھنگلی کو پانی میں ڈال دو۔اس رویاء کی اطلاع شیخ صاحب موصوف کو کر دی گئی اور ساتھ ہی تعبیر بھی لکھ دی گئی۔کہ کوئی حاسد آپ کی ترقی میں روک ڈالیگا۔مگر شیخ صاحب نے بجائے اس کے کہ توبہ و استغفار اور صدقہ و خیرات کرتے اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی جس کا مجھے بہت افسوس ہوا۔۸۱ آخر جولائی ۱۹۴۲ء میں شیخ محمد عبد اللہ صاحب کا خط آیا۔کہ افسوس کہ میں نے آپ کی خواب پر توجہ نہ کی۔واقعی اندر ہی اندر ایک حاسد ہندو نے میری ترقی میں روک ڈال دی اور کسی دوسرے ہندو کو ترقی دے دی۔جو دراصل میرا حق تھا۔اب خدا تعالیٰ کے لئے میرے حق میں دعا کریں۔میں نے اُن کے لئے جناب الہی میں دعا کی۔