حیاتِ بقاپوری — Page 169
حیات بقاپوری 169 ۴۴۔یکم جولائی ۱۹۳۸ ء ڈاکٹر محمد الحق کو میڈیکل سکول امرتسر میں داخل کرانے کے لیے میں اس کے ہمراہ گیا تو معلوم ہوا کہ سکول میں داخل ہونے کے لیے کئی ایف اے اور بی اے پاس طالب علم آئے ہوئے ہیں۔اور اچھے اچھے امیروں کے لڑکے بڑے بڑے آدمیوں کی سفارشیں لے کر آئے ہیں۔اس سے مجھے سخت گھبراہٹ ہوئی اور درخواستیں کرنیوالے طالب علم ۲۰۰ تھے۔اور میرا سوائے خداوند کریم مسبب الاسباب کے کوئی سفارشی نہ تھا اس لیے بڑے قلق اور کرب کے ساتھ رات کو دعا کر کے سو گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں۔اور محمد الحق کے داخلہ کے متعلق مجھے تسلی دیتے ہیں کہ عزیز داخل ہو جائے گا۔آپ ایک نوجوان خوبصورت مضبوط انسان کی شکل میں متمثل ہیں۔جس کی عمر ۳۰ ۳۲ سال ہوگی۔صبح میں نے عزیز کو تسلی دی اور میں اس کے ساتھ گیا اور فیض اللہ چک کے ایک احمدی طالب علم عطاء الرحمن کو جو دوسرے سال کا طالب علم تھا میں نے کہا مجھے ایسی جگہ کھڑا کرو جہاں سے میں انٹرویو کرنے والوں کو دیکھ سکوں۔چنانچہ اس نے ان کے کمرہ کے پیچھے ایک کھڑکی کے پاس کھڑا کر دیا جہاں سے میں نے دیکھا کہ تین چار افسر بیٹھے انٹرویو کر رہے ہیں اور کسی کو فٹ اور کسی کو ان فٹ کرتے جاتے ہیں۔جب محمد الحق کمرہ میں داخل ہوا اس وقت میں نے رقت سے دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو ایسا دیکھا گویا وہ قریب آ گیا ہے اور مجھے پر ربودگی طاری ہوگئی۔محمد اسحق کی نظر درست ثابت ہوئی۔لیکن جب کپڑے اتار کر دیکھا تو کہا یہ کمزور ہے اور اسے فیل کر دیا۔اس وقت محمد الحق بھی رو پڑا۔اور میں نے خدا سے دعا کی اے خدا! اب تیری قدرت دکھانے اور مجھ پر رحم فرمانے کا وقت ہے۔چنانچہ اس وقت دوسرے ڈاکٹر نے پھر محمد اسحق کو واپس بلا لیا اور کہا کہ نہیں اسے لے لو۔چنانچہ اسے لے لیا گیا۔اُس وقت جن لوگوں نے مجھے دعا کرتے دیکھا وہ کہنے لگے کہ اس شخص نے دعا کر کے آخر اپنے بیٹے کو داخل کرواہی لیا۔فالحمد للہ تعالٰی۔۲۵ ۲۵ اکتوبر ۱۹۴۰ء مطابق ۲۲ - رمضان المبارک جبکہ میں توجہ کے ساتھ نماز میں مشغول تھا میں نے دیکھا کہ پرچ میں کسی نے اعلیٰ درجہ کا حلواڈال کر مجھے دیا ہے۔نیز دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی تجلی سے زمین روشن ہوگئی ہے اور میں نے یہ سمجھ کرکہ اللہ تعالیٰ کا ظہور ہے، اپنے کام میں تسلی، اطمینان اور سرور سے مشغول ہوں۔اس کشفی حالت کے بعد میرے دل میں مخلوق انہی کی محبت اس قدر جوش زن ہوئی کہ میں نے پوری توجہ اور رقت سے بعض احباب کیلئے