حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 168 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 168

حیات بقاپوری 168 اس وقت قادیان میں کرفیو لگا دیا گیا تھا اور اندیشہ تھا کہ کل دار الفضل پر حملہ ہو جائے گا۔ادھر مجھے بشارت علی اور ادھر میرے لانے کا سامان اس طرح ہوا کہ میرا بیٹا محمد الحق امرتسر واپس آکر اپنے افسر سے کہنے لگا کہ میرے بوڑھے ماں باپ قادیان میں رُکے ہوئے ہیں ان کے لانے کی کوئی تدبیر کریں۔افسر جو مسلمان تھا اس نے کہا پرسوں میری جگہ ہند و افسر آ جائے گا اور وہ تم کو اجازت نہیں دے گا۔لہذا کل صبح تم کو ایک ٹرک اور گارڈلے دیتا ہوں تم اپنے والدین کو لے آؤ اور رات کو لاہور پہنچ کر واپس آ جاؤ۔دوسرے دن اابجے میرالٹر کا ٹرک لے کر قادیان پہنچ گیا۔اور ہم دونوں میاں بیوی اور ۲۲ نوجوان لڑکیاں اور ا ا مردہ گھنٹے کے بعد شام کے ۳ بجے قادیان سے روانہ ہو کر نو بجے رات سلامتی سے لاہور پہنچ گئے۔الحمد للہ۔جب ٹرک قادیان پہنچا تو ہمارے محلہ میں ان لڑکیوں کے ماں باپ بہت منت سماجت سے کہنے لگے کہ انہیں ضرور لے جائیں۔میں نے اپنی بیوی کے ساتھ مشورہ کیا کہ ہم تھوڑا بہت سامان لے جائیں گے اور ان لڑکیوں کو بھی ضرور ساتھ لے جائیں گے اور باقی سب سامان یہیں چھوڑ جائیں گے کیونکہ ایسا ثواب کا موقعہ کبھی کبھار ملتا ہے۔ہمارے لاہور پہنچنے کے تیسرے دن بعد قادیان میں وہ حشر بپا ہوا کہ الامان۔۴۲۔آخر اگست ۱۹۴۷ء میں میں نے دعا کی کہ اے اللہ قادیان سے باہر جانا مناسب ہے یا نہیں تو اس وقت الہام ہوا حضرت صاحب کے منشاء کو معلوم کر لو یا کر لیں۔اس لیے میں نے قادیان کو چھوڑنے کے متعلق پہلے درخواست نہ دی کیونکہ جو اس کام پر متعین تھے وہ بہتر جانتے تھے کہ کس کو کس وقت باہر بھیجنا چاہیے۔جب حضرت اقدس کی طرف سے ارشاد پہنچا کہ بوڑھے بچے اور عورتیں نکال لی جائیں تو اس پر میں نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ سے پوچھا، آپ نے فرمایا کہ ہاں درخواست دے دیں۔چنانچہ میں نے درخواست دے دی۔چونکہ میری درخواست آخر میں تھی اور ہر کنوائے پر منتظمین درخواستوں پر ترتیب وار کاروائی کرتے تھے اور میری درخواست سب سے پیچھے آئی اس لیے مندرجہ نمبر ۴۱ واقعہ وقوع پذیر ہوا۔۴۳ ۱۹۴۰ء میں ڈاکٹرمحمد الحق کے سالانہ امتحان کا ایک پرچہ بہت کمزور ہوا۔اس کے متعلق دعا کی گئی تو ۲۵ مئی کو میری زبان پر یہ آیت جاری ہوئی وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَيِّئَاتِهِم - عزیز کو اس کے متعلق خوشخبری دی گئی کہ تم پاس ہو جاؤ گے چنانچہ وہ پاس ہو گیا۔