حیاتِ بقاپوری — Page 170
حیات بقا پوری 170 خصوصی دعا کی۔اور ایسا معلوم ہوا کہ یہ دعا قبول ہوگئی ہے۔جن میں حضرت صاجزادہ مظفر احمد صاحب کا امتحان میں پاس ہونا۔حافظ مبارک احمد صاحب کے لئے فرزند نرینہ عطا ہونا وغیرہ تھیں۔چنانچہ صبح حافظ صاحب کو اس سے اطلاع دی گئی۔الحمد للہ کہ حافظ صاحب موصوف کے گھر ۶۔نومبر ۱۹۴۱ء کولڑ کا پیدا ہوا اور صاجزادہ صاحب بھی پاس ہو گئے۔( حیات بقا پوری حصہ دوم میں پیدائش کی تاریخ ۶۔جنوری درج ہے)۔محمد اسمعیل بقا پوری کی شادی کے لیے دعا کی گئی تو 9 نومبر ۱۹۳۱ء کو دیکھا کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ احباب کے درمیان سے اُٹھ کر وضو کرنے کے لیے تشریف لے گئے ہیں۔میں حضور انور کو رشتہ کے متعلق عرض کرنے گیا ہوں۔جب آپ وضو سے فارغ ہوئے تو میں نے رشتہ کی بات چیت شروع کر دی۔راستہ میں حضور انور ایک چارپائی پر لیٹ گئے اور میں نے بھی ساتھ لیٹ کر بے تکلفی سے بات چیت جاری رکھی۔لوگ اس بے تکلفی سے متعجب تھے۔میں نے کہا بات یہاں تک پہنچی ہے کہ ایک ہزار روپیہ حق مہر کہتے ہیں۔اور باوجود حضرت ماموں جان میر محمد اسمعیل صاحب کے بتانے کے کہ لڑکا اچھا ہے مرزا محمد شفیع صاحب پھر بھی کہتے ہیں کہ فوٹو منگوالو۔گویا میں حضور انور کو رشتہ میں دیر کی وجہ بتلارہا ہوں۔حضور نے محمد اسمعیل بقا پوری کے متعلق اتنی زیادہ تحقیقات کرنے پر تعجب کرتے ہوئے ہنس کر فرمایا کر لینے دو۔میں نے کہا کہ اگر یہ رشتہ نہ ہوا تو کوئی اور رشتہ ہے؟ آپ نے فرمایا بہت رشتے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس رشتہ کو پسند بھی فرماتے ہیں گو ایسی لمبی تحقیقات پر تعجب بھی کرتے ہیں۔الحمد للہ کہ ایک ماہ بعد یہ رشتہ طے ہو گیا۔-۲۷ ۱۹۴۹ء کو محمدالحق کے رشتہ کے لیے ایک جگہ کے متعلق دعا کی تو ۹۔مارچ ۱۹۳۹ء کو آواز آئی کہ: چھ ہفتہ کے بعد سوالحمد للہ کہ ۲۹ اپریل ۱۹۳۹ء کو عزیزہ رقیہ بیگم سلمہ اللہ تعالی ( نواسی مولوی شیر علی صاحب) کے ساتھ رشتہ کا معاملہ طے ہو گیا اور ۸۔نومبر کو نکاح کی تقریب عمل میں آگئی۔۴۸ ۱۸ دسمبر ۱۹۵۳ء کو خواب میں کہ رہا ہوں : یا رب میں تو ظاہر نہیں ہونا چاہتا تھا ( یعنی کتاب 'حیات