حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 157 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 157

حیات بقاپوری 157 ساتھ ہی دکھایا گیا کہ ایک ڈپٹی کمشنر لائل پور کے اسٹیشن کے قریب کے راجباہ پر کھڑا ہے۔میں نے حضرت میاں صاحب کی خدمت میں صاف طور پر لکھ دیا کہ وہ ضرور کامیاب ہو جائیں گے انشاء اللہ تعالیٰ اور لائل پور کے ضلع میں مربعوں کا کام بھی ان کے شہر دہوگا۔چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔فالحمد للہ۔_A اسی طرح جب صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ امتحان کے لئے ولایت گئے تو انہوں نے جاتے وقت کہا کہ کامیابی کے لیے دعا کریں اور نتیجہ سے اطلاع بھی دیں۔دعا کے بعد ۸ ستمبر ۱۹۳۷ ء کو دیکھا کہ میرے سامنے دو آدمی آئے اور دونوں نے مجھے ایک تختی دکھائی جس پر لکھا ہوا تھا میاں ناصر احمد صاحب پاس اور ان میں سے ایک کہتا ہے پاس کا سین ٹیڑھا ہے۔دوسرا کہتا ہے سین ٹیڑھا ہوتا ہی ہے کچھ نہ کچھ۔میں نے جواب اور اس کی تعبیر لکھ کر صاحبزادہ صاحب کو بھیجی کہ آپ کامیاب تو ضرور ہوں گے لیکن ٹیڑھا پن کا بعد میں پتہ لگے گا۔جب پاس ہو گئے تو معلوم ہوا کہ اس میں ٹیڑھا پن یہ تھا کہ جتنے نمبر ملنے کی امید تھی اس سے کم ملے ہیں۔۹۔کیم تمبر ۱۹۳۷ء سے ایک دو روز قبل مجھے زیر ناف درد ہوا۔تیسرے دن میں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھا اور صبح درد زیادہ ہو گیا۔میں نے حضرت صاحب کے وجود سے نیک فال لیتے ہوئے علاج شروع کیا۔پانچویں دن درد گردہ سمجھا گیا جو خطرناک صورت اختیار کر گیا۔رات کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت ہوئی اور اس سے اگلی رات حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔میں نے یہ خواب اپنے دوستوں اور گھر کے آدمیوں کو سُنا کر کہا کہ گو حالت بہت خطرناک ہو جائے گی کیونکہ جہان کا سب سے بڑا ڈاکٹر آیا ہے مگر انجام بخیر ہوگا۔چنانچہ دس دن نور ہسپتال میں صرف کھلتا ہوا پانی ملتا رہا اور دو تین بار نیا بھی کرایا گیا مگر درد بڑھتا گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم بھیجا کہ صبح فوراً میو ہسپتال میں جا کر ایکسرے کرا کر علاج کرایا جائے۔چنانچہ میوہسپتال میں مایوس العلاج سمجھ کر پہنچایا گیا۔چھ دفعہ ایکسرے کرایا۔بائیں گردہ میں چھوٹی چھوٹی پتھریاں تشخیص ہوئیں اور دوا سے تحلیل ہو کر نکلیں۔اور ۲۸۔ستمبر ۱۹۳۷ء کوٹیشن سے پیدل چل کر میں گھر پہنچ گیا۔فالحمد للہ