حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 156 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 156

حیات بقاپوری 156 علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم ان کے لیے دعا کرو۔میری آنکھ کھلی تو یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ ان کی رہائی کی کوئی سبیل نکالیگا۔نیز ۴۔مارچ ۱۹۱۲ء کو دیکھا کہ ابو جہل مارا گیا ہے اور سانپ اڑتا ہوا آیا ہے اور ہمارے آدمیوں میاں خان وغیرہ پر حملہ کرتا ہے۔ایک شخص اس کی دم پکڑ کر ہر بار ہٹاتا ہے اُن تک آنے نہیں دیتا۔نیز دیکھا کہ میاں خان ایک سایہ دار شیشم کے درخت کو اس غرض سے اکھاڑ رہا ہے کہ اس کا سایہ خوب ہو اور اس کی جڑیں نمودار ہو گئیں اور وہ گرنے کو تیار ہے مگر گرا نہیں۔میں نے ان خوابوں کے بعد سب کو تسلی دی۔ان سب کو اعتبار تھا کہ ان کی خواب سچی ہوتی ہے۔غرض آٹھ دس دن بعد آخری تاریخ تھی مجسٹریٹ نے سپاہیوں کو بلا بھیجا۔کہ نو سپاہی جھکڑیاں لے کر آجائیں اور کہا اب ان کو نو چکیاں (جیل میں ) دی جائیں گی اور کل فیصلہ سناؤں گا۔ہمارے آدمیوں نے کہا کہ یہ اب ہم کو جیل میں ڈالنے کا پختہ ارادہ کر چکا ہے۔آپ بعد میں اپیل ضرور کریں اس طرح آپ کی خواب پوری ہو جانے کی امید ہے۔آپ جانتے ہیں ہم بے گناہ ہیں۔یہ سب وہیں رہے اور میں واپس آکر رو رو کر دعائیں کرتا رہا۔صبح جب حکم سننے کے لیے میں سرگودھا گیا تو دیکھا عدالت میں غیر احمدیوں کا ایک گواہ غیر احمدیوں کے خلاف اور احمدیوں کے حق میں شہادت دے رہا ہے اور حاکم بھی کچھ نرم ( ڈھیلا) پڑا ہوا ہے اور اس کا بھی منشاء معلوم ہوتا ہے کہ احمدی چھوٹ جائیں۔اللہ تعالیٰ کے آگے سجدہ شکر ادا کیا۔بعد میں پتہ چلا کہ مجسٹریٹ کا لڑکا جو خود بھی ایک مجسٹریٹ ہے گاڑی میں ادھر آرہا تھا کہ ریل میں اس کا کوئی دوست اُسے ملا اور اُسے کہا کہ آج کل تیرے باپ کے پاس چند شریف آدمیوں کا مقدمہ ہے وہ بے گناہ ہیں ان کو ناحق سزا ہو گی۔تم اپنے باپ کو اصل حقیقت بتلا دو۔چنانچہ اس نے اپنے باپ کو آکر اطلاع دی اور اس طرح احمدیوں کے بے گناہ ہونے کا علم ہونے پر اس نے ناظر کو کہا کہ مثل بدل دو۔غرض مثل بدل دی گئی اور خواب پوری ہوگئی اور سب آدمی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بری ہو گئے۔فالحمد للہ علی ذالک۔جن دنوں مرزا مظفر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ڈپٹی کمشنر کا امتحان دینے کے لیے ولایت جانے والے تھے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خط لکھا کہ ان کی کامیابی کے لیے دعا کروں اور اگر کوئی انکشاف ہو تو اس سے بھی اطلاع دوں۔میں نے ان دنوں (اپریل ۱۹۳۷ء) میں دو تین روز دعا کی تو دیکھا کہ مرزا ظفر احمد صاحب کے ہاتھ میں ایک بیٹ (Ba) ہے اور حاکمانہ وردی میں ملبوس ہیں اور بیٹ کو ایک چارپائی پر رکھ دیا اور