حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 154 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 154

حیات بقاپوری 154 اُسے یہ خوشخبری بھی سنادی۔جب صبح ڈاکٹر صاحب آئے تو میری بیوی اٹھ کر بیٹھی ہوئی تھی۔الحمد لله الشافی والكافي والمعافى۔سندھ کا ذکر ہے کہ اسٹیشن لاکھ کے قریب پندرہ بیس کوس ریت کے ٹیلے ہی ٹیلے ہیں اور لوگ بھیٹر بکری چرا کر گزارہ کرتے ہیں۔مولوی محمد مبارک صاحب سندھی مبلغ نے ایک دفعہ مجھے کہا کہ وہاں پر میرا ایک شاگر در ہتا ہے اس نے مجھے کہا ہوا ہے کہ آپ یہاں پر حضرت خلیفہ قادیانی کے نمائندہ بقا پوری صاحب کو کبھی لائیں تا کہ اُن سے ہم احمدیت کی صداقت کے دلائل سنیں۔چنانچہ ہم لاکھ گوٹھ نامی گاؤں سے دس بارہ میل کا فاصلہ طے کر کے عصر کے وقت وہاں پہنچے۔شام کو اس آدمی نے اپنی بکریاں اور بھیڑیں ایک جگہ جمع کیں اور خود اپنے نوکروں اور تینوں بیویوں اور تمام کنبہ کو اکٹھا کر کے کھانا کھانے کے بعد ہماری باتیں سننے کے لیے آگیا۔چاندنی رات تھی۔میں نے عجیب جذبہ عشق و محبت کے ماتحت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کی روحانی برکات کا ذکر کرنا شروع کیا۔ابھی آدھا گھنٹہ گذرا ہوگا کہ مکان کے اندر سے اس کا کتا نکلا اور وہ ایک دوسرے جانور ( جسے وہ شخص اپنا ہی کتا سمجھتا تھا) کے پیچھے بھاگا تو اسے معلوم ہوا کہ یہ تو بھیٹر یا تھا۔اس پر وہ خود بھی اُٹھ کر گیا کہ کہیں کوئی بھیٹر یا بکری اُٹھا کر لے گیا ہو۔جب وہ تھوڑے عرصہ بعد واپس آیا تو میں نے دوبارہ سلسلہ تقریر شروع کیا تو وہ کہنے لگا۔اب مجھے کسی دلیل کی ضرورت نہیں، آپ کچے ، آپ کا امام سچا اور حضرت مسیح موعود بچے۔ہم نے ساری عمر میں ایسا واقعہ دیکھا ہی نہیں۔کیونکہ جب آپ نے تقریر شروع کی تھی مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھیڑیا اُسی وقت بکریوں کی طرف حملہ کے لیے آیا تھا لیکن یہ رک گیا۔میں سمجھا یہ ہمارا اپنا کتا ہے جو باہر کھڑا ہے لیکن جب اندر سے ہمارا کتا نکل کر اسے دیکھ کر بھون کا ہے اور یہ بھا گا تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ تو بھیڑیا ہے۔اس اثناء میں نہ تو اسے بھیڑ بکریوں پر حملہ کرنے کی جرات ہوئی نہ بکریاں ہی خوفزدہ ہوئیں۔یہ سب کرامت آپ کی برکت، آپ کے پیر کی برکت سے ظاہر ہوئی۔اور اس نے اور اس کی بیوی بچوں نے بیعت کر لی۔_Y حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے زمانہ کا واقعہ ہے 1991ء کے دوران میں ایک غیر احمدی کسی عورت کو اغوا کر کے چک نمبر 199 میں لے آیا۔جب پولیس کے سپاہی نے اُسے موقعہ پر آ پکڑا تو سپاہی اس مغویہ