حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 155 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 155

حیات بقاپوری 155 عورت کو نمبر دار کی بیٹھک میں لے آیا۔غیر احمدیوں نے اتفاق کر کے عورت سپاہی سے چھڑوا کر اغوا کرنے والے کو دے دی اور اُسے دوسری جگہ بھیج دیا۔جب مقدمہ چلا تو اس میں غیر احمدیوں کے ساتھ ہمارے چار احمدی آباد کا ر بھی ناحق ملزم بنا لیے گئے۔جن میں چوہدری غلام محمد صاحب صحابی اور میاں خان صاحب اور محمد خان صاحب صحابی بھی تھے۔اس میں پانچ غیر احمدیوں کی سازش تھی اور مجسٹریٹ کو یہ معلوم ہوا تھا کہ ان لوگوں نے عورت کو ز بر دستی سپاہی سے چھڑا لیا ہے اس لیے مجسٹریٹ سب کو سات سات سال سزا دینے پر تل گیا اور اس طرح گیہوں کے ساتھ گھن پس جانے کا خطرہ تھا۔تھانیدار حاکم خان بھی احمدیوں کا سخت متعصب دشمن تھا۔اس نے پرچہ میں احمدیوں کے خلاف جھوٹ موٹ بہت مواد جمع کیا اور مجسٹریٹ بھی اس کے جمع کردہ بیانات کے مطابق سب کو سزا دینے کا پکا ارادہ کر چکا تھا۔غیر احمدیوں کے وکیل نے ان پانچ آدمیوں کو یہ کہا کہ تم عدالت میں کہہ دینا کہ تھانیدار نے سب جھوٹا کیس بنایا ہے وہاں پر اغواء کا کوئی واقعہ ہی نہیں ہوا۔غیر احمدی کہنے لگے کہ ہم تو آپ کی بات مان کر ایسا (جھوٹا) بیان دے دیں گے مگر دوسرے چار احمدی یہ جھوٹ نہیں بولیں گے۔ہاں اگر ان کا مولوی ان کو کہے تو شائد مان جائیں۔وکیل نے کہا کہ مولوی صاحب کو میرے پاس بھیجوانا میں اُسے سمجھاؤں گا۔چنانچہ میں اس کے بلانے پر وکیل کے پاس گیا۔اس نے بڑی لمبی تقریر کی کہ جان بچانا فرض ہے۔میں اس کی باتیں سنتا رہا۔بالآخر میں نے کہا کہ میں اپنے لوگوں کو ہر روز قرآن کریم سناتا ہوں اور سچ کی تلقین کرتا ہوں اور یہ کہ جھوٹوں پر خدا کی لعنت پڑتی ہے۔اب ان کو خود ہی جھوٹ بولنے کو کیسے کہوں؟ اگر میں ان کو جان بچانا فرض ہے، کہ کر جھوٹا بیان دینے کے لیے کہوں بھی ، تو آگے سے یہ جواب نہ دیں گے کہ جان بچانا فرض ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو اپنے ایمان بچانے کا حکم دیا ہے؟ اور یہ کہ اس کو بچانے کے لیے عزت، جان، مال سب کچھ قربان کر دینا چاہیے۔یہی ہمارا عقیدہ ہے اور یہی طرزہ عمل ہے۔کہنے لگا سب لوگ یونہی کہتے ہیں وقت آنے پر اور مصیبت پڑنے پر سب جھوٹ بول لیتے ہیں۔میں نے کہا کہ ہم تو ایسے نہیں ہیں۔اس پر وکیل نے کہا کہ پھر یہ سب جیل میں ضرور جائیں گے۔میں نے کہا کہ آپ تو جیل سے ڈرا رہے ہیں، میں کہتا ہوں کہ بے ایمانی کی زندگی سے موت بہتر ہے۔وہ اس سے بہت متاثر ہوا۔ہم واپس چلے آئے اور خود بھی زور شور سے دعائیں کرتے رہے اور حضرت خلیفہ اسی اول رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خدمت مبارک میں بھی دعا کے لیے لکھتے رہے۔اور جب دیکھا کہ حاکم سب کو جیل میں ڈالنے پر بالکل تل گیا ہے تو اور تضرع سے دعائیں کی گئیں۔ایک رات ۳۔مارچ ۱۹۱۲ء میں دعا کرتے ہوئے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ