حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 153 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 153

حیات بقاپوری 153 انتہائی حالت پیدا ہوگئی ہے تو آپ مجھے کہہ دیں۔انہوں نے کہا یہ ہمارے ڈاکٹری اصول کے خلاف ہے۔میں نے کہا آپ صرف ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ میرے بھائی بھی ہیں، دین دار بھی ہیں اور ہمدرد بھی۔اگر یہ فوت ہو گئی تو آپ کا قیافہ درست ثابت ہوگا اور اگر بچ گئی تو میں سمجھوں گا کہ آپ کے اجتہاد میں غلطی ہوگئی کیونکہ علم طلب بھی ایک ظنی علم ہے یقینی تو نہیں۔اس کا فائدہ یہ ہے، کہ اب جب میں دعا کرتا ہوں تو آپ کا وجود امید ہو کر روک بن جاتا ہے اور اس وجہ سے اضطراب پیدا نہیں ہوتا جو افمن یجیب المضطر کے مطابق دُعا کے لیے ضروری چیز ہے۔لیکن اگر آپ جواب دیدیں گے تو مجھے اضطراب ہوگا اور دعائے خاص کی توفیق مل جائیگی۔چنانچہ ڈاکٹر محبوب عالم صاحب دو تین دن بعد مغرب کے وقت میرے پاس ایک اور ڈاکٹر کے ساتھ آئے۔میری بیوی کو دیکھا اور مجھے کہا آپ کی اہلیہ آج کی رات مشکل ہے جو زندہ رہے۔میں نے کہا جزاکم اللہ آپ نے اچھا کیا مجھے اطلاع دے دی۔ان کو رخصت کرنے کے بعد میں نے وضو کیا اور بیوی کو دیکھا کہ اس کی نبضیں چھوٹ رہی ہیں اور آنکھوں میں کھچاوٹ بھی ہے پس میں نے سجدہ میں دعا کرنی شروع کر دی اور دعا میں مجھ پر رقت طاری ہوئی اور ساتھ ہی ربودگی کی حالت بھی مجھ پر وارد ہو گئی اور میں نے یوں سمجھا کہ گویا میں اب خدا تعالیٰ کے قبضہ میں چلا گیا ہوں اور دعا کرتے ہوئے میری زبان پر یہ شعر تھا: شور کیسا ہے ترے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا اور دعا کرتے کرتے مجھ پر سخت اضطرار کی حالت طاری تھی۔میں نے عرض کیا حضور پہلے میری لڑکی فوت ہوگئی اب میرا یہ گھر تباہ ہورہا ہے۔اس پر دائیں جانب سے آواز آئی: ہم تو اچھا کر رہے ہیں جس پر میرے دل کو تسکین ہوگئی اور میں نے آنسو پونچھے اور بیوی کے پاس آیا اور نبض پر ہاتھ رکھا تو دیکھا کہ وہ واپس آکر دھیمی دھیمی چل رہی ہے۔اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب خدا وندر من و کریم نے مجھ پر خاص فضل فرمایا ہے۔میں دو منٹ کھڑا رہا کہ اس نے کروٹ بدلی اور میں نے کان اس کے منہ سے لگایا تو اس نے پانی کے الفاظ کہے میں نے چمچہ سے اس کے منہ میں پانی ڈالا تو اس نے پی لیا اور پانچ منٹ کے اندر اندر میری بیوی اس قابل ہوگئی کہ میں نے