حیاتِ بقاپوری — Page 110
حیات بقا پوری 110 احمد کی نوجوان اپنی بیوی کے ہمراہ اس کمرہ میں سوار ہوئے جس میں ہم دونوں تھے۔اس نوجوان نے مجھے کہا کہ آپ ذرا سا سرک جائیں۔میں جلدی سے مولوی صاحب کے ساتھ مل گیا۔لیکن ان دونوں میاں بیوی کے لئے ابھی جگہ تنگ تھی۔اور میرے ہمرا ہی مولوی صاحب کے دوسری طرف جگہ خالی تھی۔اس نوجوان نے مولوی صاحب سے کہا کہ آپ بھی ذرا آگے ہو جائیں۔مگر مولوی صاحب نے کہا کہ تم ادھر آجاؤ میں اپنی جگہ نہیں چھوڑوں گا۔اس پر ان دونوں میں خوب تو تو میں میں ہوئی اور اس نوجوان نے مولوی صاحب کو بڑی گندی گالیاں دیں۔مولوی صاحب خاموش تو ہو گئے لیکن اپنی جگہ سے نہ ہلے۔اور وہ نوجوان لوگوں سے بار بار کہنے لگا۔دیکھو کہ یہ بوڑھا کس قدر نیک ہے کہ میرے اشارے پر ہی اُس نے مجھے جگہ دے دی اور یہ نوجوان اتنا متکتیر ہے کہ میری بیوی کیلئے جگہ کی ضرورت ہے پھر بھی کہتا ہے کہ تم ادھر آجاؤ میں یہاں سے نہیں ہٹونگا۔اب اس سے اندازہ لگایئے کیا اس مجلس میں مولوی صاحب کوئی تبلیغ کر سکیں گے؟ ۶۹۔اپنی کمزوری کا اقرار کرنا اپنا جس قدر نیک نمونہ ہوگا خدا تعالیٰ بھی خوش ہو گا۔اور لوگوں کی ہدایت کا بھی موجب ہوگا۔جس طرح میں نے ایک مبلغ کی کمزوری یعنی کبر کا ذکر کیا ہے۔اسی طرح میں مناسب سمجھتا ہوں کہ میں اپنی دو کمزوریوں کا بھی رفاہ عام کیلئے ذکر کروں۔ایک دفعہ میں ضلع سیالکوٹ کے دیہات کا دورہ کرتے ہوئے ماہ رمضان جبکہ جون کا مہینہ تھا ایک زمیندار کے گھر آیا۔جو اپنے گاؤں میں ایک ہی احمدی تھا۔چونکہ وہ خود روزہ نہ رکھتے تھے۔اس لئے سحری کے وقت با وجود آسودہ حال ہونے کے خشک روٹی اور گھڑے کا پانی میرے سامنے رکھ دیا۔لیکن میں نے کوئی خیال نہ کیا اور پانی کے ساتھ ایک دو نوالے کھالئے اور روزہ رکھ لیا۔چونکہ جون کا مہینہ تھا اور سخت گرمی کے دن تھے مجھے تکلیف سخت ہوئی۔دوسری رات جس گاؤں میں گیا۔اس بات کا علم اُن کو کسی طرح ہو گیا۔اُن کی لڑکی کے رشتہ کی تجویز اس زمیندار کے لڑکے کیساتھ تھی جس کا مجھے علم نہ تھا۔اُن کو بہانہ ہاتھ آ گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسے بخیل کو رشتہ نہیں دیتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ میرے وعظ و نصیحت میں کم بیٹھتا تھا۔ایک دن خدا تعالیٰ کے فضل نے میری دستگیر کی۔اور مجھے خیال آیا کہ اگر میں لڑکی والوں کو اُن کے دریافت کرنے پر یہ نہ بتاتا کہ میں نے سحری کے وقت کیا کھایا ہے تو وہ یہ بہانہ نہ بناتے۔پس میں نے اللہ تعالیٰ کے حضور استغفار کیا اور معافی طلب کی۔اور پھر صبح اُس زمیندار کے گاؤں دو تین میل