حیاتِ بقاپوری — Page 111
حیات بقا پوری 111 کے فاصلہ پر اُس سے معافی مانگنے گیا۔اُس پر اس بات کا اس قدر اچھا اثر ہوا کہ میرے اُس کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات ہو گئے۔گو میرے اس معافی مانگنے کو میرے بعض دوستوں نے بہت بُرا منایا کہ خواہ مخواہ اپنے آپ کو ذلیل کیا۔لیکن ایک متکبر آدمی تو شاید یہی سمجھے گا کہ معافی مانگنے سے میری بے عزتی ہوتی ہے مگر ہمیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی ارشاد ہے کہ بچے ہو کر بھی جھوٹوں کی طرح تذلل اور عاجزی اختیار کرو۔غرض تواضع اور انکساری خدا تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔اللہ تعالیٰ توفیق دے۔بخل کا علاج ۱۸۹۵ء کا ذکر ہے کہ میں کراچی میں ایک ڈپٹی کلکٹر کے بچوں کو عربی پڑھایا کرتا تھا۔وہ مجھے معقول تنخواہ کے علاوہ کھانا بھی دیتے تھے۔ایک دن میں باورچی خانہ میں کھانا کھانے جارہا تھا کہ ایک فقیر میرے پیچھے ہولیا۔میں نے اس کو بُرا منایا اور دل میں وسوسہ آیا کہ اسے میں کھانا نہیں دوں گا۔باورچی خانہ میں پہنچ کر جب کھانا کھانے ہی لگا تھا اور ابھی میں نے پہلا ہی لقمہ منہ میں ڈالا تھا۔کہ اس فقیر نے صدا دی۔پہلے تو میں نے کہا چلے جاؤ۔لیکن اُس نے جونہی دوبارہ تضرع کی تو میرے مولیٰ کریم کے فضل نے میری دستگیری فرمائی اور میں نے اپنے نفس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔اے نفس امارہ ! اگر تو ایک پر اٹھا اور نصف تھالی سالن کی دید نیتا تو پھر بھی تیرا کچھ نہ بگڑتا۔کیونکہ رات کو پھر تجھے اعلیٰ غذا وافر مل جانے والی تھی۔اب تیرے اس نکل کی سزا یہ ہے کہ سالن کی پوری پلیٹ اور دونوں پر اٹھے اس کو دیئے جائیں اور تجھے رات کو بھی محروم اور بھوکا رکھا جائے۔چنانچہ میں نے وہ دونوں پر اٹھے اور سارا سالن اُسے دیدیا اور وہ خوشی خوشی دعائیں دیتا چلا گیا۔اور رات بھی میں نے کچھ نہ کھایا۔اس کا اثر میرے قلب پر یہ ہوا کہ اب مجھے فقیروں اور غریبوں کو د یکھ کر خوشی حاصل ہوتی ہے۔اور میں اس کو نیکی حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متبعین کا غیروں پر اثر جب میں نے بیعت کی تو میرے ایک غیر احمدی دوست نے جو میرا ہم مکتب تھا۔اپنے استاد مولوی محمد اسمعیل صاحب سے کہا، کہ مولوی بقا پوری جو آپ کا شاگرد ہے، اس نے مرزا صاحب کی بیعت کی ہے۔اس پر اس استاد نے اسے کہا کہ جب تم اپنے دوست کے پاس جاؤ تو اسے میرے پاس آنے کے لئے کہنا۔جب یہ دوست