حیاتِ بقاپوری — Page 109
حیات بقاپوری 109 درس دیتے ہیں۔لیکن اُن احمدیوں کو جن کا تعلق جماعت لاہور سے ہے۔اور یہ مولوی صاحب اُن احمدیوں کو درس دیتے ہیں جن کا تعلق قادیان سے ہے۔خان صاحب نے پوچھا کہ ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ پیر جی نے کہا لا ہوری کہتے ہیں کہ مرزا صاحب صرف مجدد تھے نبی نہیں تھے۔اور یہ قادیان والے کہتے ہیں کہ مرزا صاحب مجدد بھی تھے اور نبی بھی تھے۔خان صاحب نے غصہ سے تو بہ تو بہ کہنا شروع کر دیا۔میں نے کہا آپ اس بات کا ثبوت مجھ سے لیں اور غصہ نہ ہوں۔وہ کہنے لگے میں اس بارہ میں گفتگو ہی نہیں کرنا چاہتا۔پیر عبد الکریم صاحب کا صاجزادہ جو تازہ تازہ دیو بند سے تعلیم مکمل کر کے آیا تھا کہنے لگا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لا نبی بعدی۔میرے بعد کوئی نبی نہیں۔میں نے کہا یہ لا نبسی اسی طرح کا لا ہے جس طرح لا صلوة إلا بفاتحة الکتاب میں ہے۔حالانکہ آپ حنفی لوگ امام کے پیچھے احمد نہیں پڑھتے۔انہوں نے کہا دوسری حدیث میں جو آیا ہے کہ امام کی قراءت مقتدی کی قراءت ہی ہوتی ہے۔میں نے کہا اسی طرح حدیث میں جو آیا ہے کہ مسیح موعود نبی اللہ ہو گا۔پس جس قاعدہ سے آپ نے حدیث لا صلوۃ میں سے مقتدی کے الحمد پڑھنے کو باہر کر لیا ہے، اسی قاعدہ سے آپ حدیث لا نبی بعدی میں سے حدیث عیسی نبی اللہ سے مسیح موعود کی نبوت باہر رکھ لیں۔ہمارا عقیدہ بھی وہی ہے جو آپ لوگوں کا ہے کہ مسیح موعود نبی اللہ ہو گا۔آپ ہمارے ساتھ یہ گفتگو کریں کہ مرزا صاحب کے مسیح موعود ہونے کا کیا ثبوت ہے، نہ یہ کہ مرزا صاحب نبی اللہ ہیں یا نہیں۔کیونکہ مسیح موعود کی نبوت کو ہم دونوں ہی مانتے ہیں۔پھر پیر جی نے کہا کہ اس طرح یہ صحیح ہے کہ جولوگ مرزا صاحب کو مسیح موعود مانتے ہیں وہ نبی اللہ بھی مانیں۔کیونکہ تمام امت مرحومہ کا یہی عقیدہ ہے۔-۲۸ مبلغ کا با اخلاق انسان ہونا ضروری ہے تبلیغ کے لئے ضروری ہے کہ انسان متکبر نہ ہو۔اور نہ دوسروں کو حقارت سے دیکھے بلکہ مخلوق خدا سے ہمدردانہ جذبہ رکھنے والا ہو۔اور اپنے آپ کو بے نفس انسان بنائے۔اور با اخلاق انسان ہو۔اور دعاؤں سے بہت کام لے۔کیونکہ ہادی خدا تعالیٰ کا نام ہے۔لوگ مبلغ کے قول کا اتنا خیال نہیں کرتے جتنا اس کے افعال اور اخلاق کا۔اس پر میں ایک واقعہ تحریر کرتا ہوں۔ایک سفر میں میرے ساتھ ایک نو جوان مولوی صاحب تھے جو خود بین تھے۔جالندھر سٹیشن پر ایک غیر