حیاتِ بقاپوری — Page 94
حیات بقاپوری 94 چھپا۔صبح کو خیال کر کے کہ اب پیر صاحب غالباً رخصت ہو چکے ہوں گے وہ گھر کی طرف لوٹا۔لیکن سُوئے اتفاق سے پیر صاحب باہر نکلتے ہوئے گلی میں دو چار ہو گئے اور بغیر سلام علیکم کے کہنے لگے لاؤ ہماری نذر! مرید بولا۔اگر اپنی نظر آپ کو دے دوں تو خود کیسے دیکھوں گا۔پیر کہنے لگا بھئی پیر کا روپیہ نذرانہ دو۔مرید نے کہا حضرت میرے پاس روپیہ ہوتا تو ساری رات کماد کے اندر کیوں چھپا رہتا۔پھر مسکراتے ہوئے آپ نے فرمایا۔اس طرح جا کر غریبوں کو تنگ اور شرمندہ کرنا اچھا نہیں۔اس کلام کا ان تینوں بھائیوں پر یہ اثر ہوا کہ تینوں نے بیعت کر لی۔مگر سنا ہے کہ بعد میں پھر دنیوی لالچ سے انہوں نے بیعت فتح کر دی۔اناللہ وانا اکثیر رابون میں نے ان میں سے ایک کی زبان سے بارہا یہ صداسنی مرزا نور خدائے دا اکھیں ڈٹھا آج ۵۴ حضرت مسیح موعود آنحضرت کے امتی اور تابع نہی ہیں ایک دقعہ سالانہ جلسہ کے ایام میں حضرت اقدس علیہ السلام اپنے خدام کے ساتھ بڑے بازار سے گذر کر ریتی چھلہ میں لہسوڑی کے درخت کے پاس ٹھہر گئے اور خدام پروانہ وار مصافحہ کی خاطر ایک دوسرے پر گرنے لگے۔کسی دوست نے کہا بھائیو تحمل سے کام لو۔کیوں بے تابی کا مظاہرہ کرتے ہو۔اس سے حضور کو بھی تکلیف ہو رہی ہے۔اس پر ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کہنے لگے لوگ کیا کریں تیرہ سو سال کے بعد ایک نبی کا مبارک چہرہ نظر آیا ہے۔نیز اسی مجلس میں ایک شخص بلند آواز سے الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول الله - الصلوۃ والسلام علیک یا نبی اللہ۔پڑھتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کبھی کبھی اس کی طرف چشم مبارک اٹھا کر دیکھتے اور آپ کے چہرہ مبارک سے بشاشت مترشح ہوتی تھی۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جماعت احمد یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی اور تابع نبی مانتی ہے۔اور تمام روحانی برکتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ملیں ان کا ذریعہ اور واسطہ اور وسیلہ آنحضرت صلی للہ علیہ وسلم کے وجود باجود کو یقین کرتی ہے۔جیسا کہ آپ کے الہام میں بھی ہے حمل برتر من محمد صلى اللہ علیہ وسلم با رَك من علم و تعلم۔اور رسول اللہ اور نبی اللہ کے خطابات کے مستحق آپ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور پیروی سے اور فنافی الرسول ہو کر ٹھہرتے ہیں جیسا کہ کسی شہنشاہ کے ماتحت بادشاہ عزت و حرمت کے خطابات سے مشرف ہوتا ہے یا چاند سورج کی روشنی سے متغیر ہوتا ہے۔