حیاتِ بقاپوری — Page 93
حیات بقاپوری ۵۲ غیر احمدی مولویوں کا حرص 93 بیگم پور ضلع جالندھر میں خاکسار اور حضرت حافظ روشن علی صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب مباحثہ کے لیے گئے۔غیر احمدیوں کی طرف سے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے مباحثہ کرنا تھا۔ہفتہ کے روز ہم پہنچے تو غیر احمد یوں نے دوسری بار مولوی ثناء اللہ صاحب کو لانے کے لیے آدمی بھیجا لیکن وہ دوسرے دن اتوار کو خالی واپس آیا۔تو غیر احمدی نمبر دار ہمارے پاس آکر کہنے لگا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی آج کچہری میں شہادت تھی اس واسطے وہ نہیں آسکے۔آپ کوئی دوسری تاریخ مقرر کریں۔میں نے سنجیدگی سے کہا۔چوہدری صاحب مولویوں کی شہادت اتوار کے روز ہوتی ہے جبکہ دوسرے لوگوں کے لیے سرکار کچہری بند رکھتی ہے۔شرمندہ ہو کر واپس جانے لگا تو میں اس کے ساتھ ہولیا۔میں نے کہا چوہدری صاحب یہ لوگ بڑے حریص ہوتے ہیں اگر اس نے نہیں آنا تھا تو پہلے دن ہی انکار کر دیتا وغیرہ وغیرہ۔میں نے یہ باتیں ایسی طرز سے ہمدردانہ لہجہ میں کہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے نہ آنے کی حقیقت کھل گئی کہ وہ کہتے تھے اتنے روپے پہلے دو۔یہ کہتے تھے کہ مباحثہ کرنے کے بعد دیں گے۔اس کے بعد وہ ہماری باتیں سننے کے لیے تیار ہو گئے اور نماز ظہر سے مغرب تک تمام غیر احمدی ہماری تقریر میں سنتے رہے۔۵۳۔تین پیرزادوں کا قادیان آنا جھنگی ضلع گورداسپور کے پیر زادے تین بھائی تھے ان میں سے نور محمد کو مرض ذات الحب کا سال میں دو دفعہ دورہ ہوا کرتا تھا۔جب وہ تینوں بھائی دورہ کرتے ہوئے قادیان کے قریب آئے تو نور محمد کے علاج کے لیے حضرت خلیفہ مسیح اول رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس حاضر ہوئے۔آپ نے تشخیص کے بعد فرمایا کہ آپ چند روز ظہر کر علاج کرائیں۔۔۔۔تو پھر میں جتلا سکوں گا کہ یہاں پر رہ کر علاج بہتر ہوگا یا گھر پر بھی دوائی استعمال ہو سکے گی۔ان تینوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں بھی حاضر ہونے کی خواہش کی۔چنانچہ حضور نے بوقت نماز ظہر شرف ملاقات بخشا۔دورانِ گفتگو میں ان میں سے ایک نے سوال کیا کہ سفر کتنی مسافت کا ہو تو نماز قصر کی جاسکتی ہے؟ حضور نے فرمایا آپ کو سفر کی کیا ضرورت پیش آتی ہے۔پیرزادہ نے کہا مریدوں کے پاس جانا ہوتا ہے۔حضور نے فرمایا کہ آپ مریدوں کے پاس کیوں جاتے ہیں اور کیوں جا کر بے چاروں کو تنگ کرتے ہیں۔ہماری طرح گھر پر ہی کیوں نہیں بیٹھتے ؟ جو رزق اللہ تعالیٰ نے آپ کی قسمت میں لکھا ہے وہ ہل رہے گا۔اس طرح رزق کی کسر بھی جاتی رہے گی اور نماز کو قصر کرنے کی ضرورت بھی نہ پڑے گی۔نیز فرمایا۔کہتے ہیں کہ ایک پیر صاحب شام کو ایک گاؤں میں اپنے ایک غریب مرید کے گھر پہنچے جونذرانہ دینے کی طاقت نہ رکھتا تھا۔وہ مرید پیر صاحب کو دیکھ کر ایک کماد کے کھیت میں جا