حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 92 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 92

حیات بقا پوری 92 گدی نشین، کوئی صوفی آپ نہیں دیکھیں گے جو پہلے بزرگوں، مجد دین اور اولیائے اُمت کی طرح اللہ تعالیٰ سے الہام پانے یا کشوف صحیحہ کا شرف حاصل کرنے کا مدعی ہو۔کیونکہ اب اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام اور موجودہ زمانہ میں آپ کے نائب اور خلیفہ برحق مسیح محمدی سے تعلق پیدا کیا جاوے۔دنیا میں کسی وسیلہ کے بغیر حاکم تک رسائی نہیں ہو سکتی تو خدا تعالیٰ تک جو احکم الحاکمین اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے اس کے پیاروں کی مخالفت کر کے کہاں رسائی ہو سکتی ہے۔۵۱۔حضرت مسیح موعود کی غلامی میں بے نفسی ایک بار میں تبلیغی دورہ پر جارہا تھا اور میرے ساتھ کتابوں کی گٹھڑی میں قرآن پاک بھی تھا۔جب گاڑی امرت سر پہنچی تو ایک سفید ریش جو ہاتھ میں حقہ پکڑے ہوئے تھا میری گٹھڑی پر بیٹھنے لگا۔رات کا وقت تھا میں نے ہاتھ سے ہٹا کر کتابیں اپنی گود میں رکھ لیں۔اس نے سمجھا مجھے بیٹھنے نہیں دیتا۔اس کے ساتھ نو جوان لڑکے اور گاؤں کے ایک لالہ جی بھی تھے۔وہ بوڑھا باوجودیکہ بیٹھ بھی گیا پھر بھی اس نے مجھے بے تحاشا گندی گالیاں دینی شروع کر دیں۔میں منتظر رہا کہ یہ کب خاموش ہو تو اسے اصل حقیقت بتلاؤں۔جب چند منٹ گزرے تو لالہ جی نے کہا چوہدری صاحب یہ شخص گونگا معلوم ہوتا ہے صبر کرو۔اس پر اُس نے پھر گالی دے کر کہا لالہ جی اس نے مجھے دھکا دیا اگر میں گر جاتا اور میرا دانت ٹوٹ جاتا تو پھر کیا ہوتا !!! میں خاموشی سے سختا رہا جب وہ تھک کر حقہ پینے لگا تو میں نے لالہ جی کو مخاطب کر کے کہا۔لالہ جی ! چوہدری صاحب کو غلطی لگی ہے میں نے دھکا نہیں دیا بلکہ ان کو پیچھے ہٹا کر کتابوں کی گھڑی جن کے اوپر قرآن شریف ہے اٹھائی ہے۔یہ مسلمان ہے اس سے پوچھوا اگر یہ بے خبری میں قرآن شریف پر بیٹھ جاتا تو اس کو کس قدر صدمہ پہنچتا۔میرا یہ کہنا تھا کہ لالہ جی کہنے لگے رام رام یہ تو کوئی دیوتا ہے۔چوہدری صاحب اس سے معافی مانگو اور اس کے لڑکوں نے بھی اُسے معافی مانگنے پر مجبور کیا اور کہا کہ یہ تو مولوی صاحب ہیں۔اگر تو قرآن شریف پر بیٹھ جاتا تو ہم پر خدا تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا۔غرض میں نے اس کے معافی مانگنے پر معافی دے کر تبلیغ شروع کر دی اور بتایا کہ اس طرح کے اخلاق اور بے نفسی موجودہ زمانہ کے مامور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں حاصل ہوئی ہے وگرنہ میں بھی غیر احمدی مولویوں کی طرح متکبر ہوتا۔الغرض لاہور تک میں تبلیغ کرتا رہا اور وہ لوگ مجھے پنکھا کرتے رہے اور خاموشی سے سنتے رہے اور اچھا اثر لے کر گاڑی سے اترے۔