حیاتِ بقاپوری — Page 91
حیات بقاپوری 91 میں۔میں نے کہا ان بزرگوں پر اُس زمانہ کے مولویوں نے کفر کا فتویٰ کیوں لگایا تھا۔کہنے لگے مولوی جھوٹے تھے ان کے بیان کردہ حقائق و معارف کو نہیں سمجھ سکتے تھے۔میں نے کہا کہ اسی طرح کے بزرگ آج بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوئے ہیں لیکن مولوی ان کو بھی کافر کہتے ہیں۔جب یہ زمانہ گذر جائے گا تو ان کی صداقت بھی عام لوگوں پر کھل جائے گی۔اس پر انہوں نے اصرار کیا کہ اس بزرگ کے حالات سے ہمیں بھی آگاہ کریں۔اس پر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوی مع دلائل اور جماعت کے غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کے لیے جدو جہد کو تفصیل سے بیان کیا۔کہ غیر ممالک میں ہزاروں بت پرست عیسائی ، دہر یہ اور غیر مسلم ہماری جماعت کی کوشش سے داخل اسلام ہو رہے ہیں۔جیسا کہ ہمارے بزرگوں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، فرید الدین گنج شکر، داتا گنج بخش وغیرھم کے ذریعہ ہوئے اور میں سندھ میں اس بزرگ کا مبلغ ہوں اور میرے ذریعہ یہاں پر لوگ داخل سلسلہ ہور ہے ہیں اور جگہ جگہ احمدی جماعتیں قائم ہو رہی ہیں اس پر انہوں نے قادیان کا سب پتہ لکھوالیا اور وہاں جانے کا وعدہ کر لیا۔-۵۰ مامورین و مجد دین خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا وسیلہ ہیں ایک دفعہ ایک غیر احمدی مولوی صاحب غیر احمدیوں کی مجلس میں کچھ مسائل بیان کر رہے تھے۔میں بھی وہاں بیٹھ گیا۔اور بعض باتوں میں اُس سے تعاون کرتا تھا۔کچھ وقفہ کے بعد میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مثال دے کر سمجھایا کہ اب حقائق و معارف کا دروازہ ان پر کھولا گیا ہے۔اس پر لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات وغیرہ کا پوچھنے لگے تو مولوی صاحب غصہ ہو کر کہنے لگے کہ تم احمدیوں میں یہ بڑا مرض ہے کہ ہر بات میں مرزا صاحب کا ذکر ضرور کر دیتے ہو۔میں نے کہا اس لیے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فیوض و برکات حاصل کرنے کے لیے کچھ ذرائع رکھے ہیں جب انسان ان ذرائع سے کام نہ لے کوئی فیض حاصل نہیں کر سکتا۔مثلاً دیکھنے کا ذریعہ آنکھ، سننے کا کان۔اسی طرح اپنی معرفت اور محبت حاصل کرنے کے لیے مامورین و مجددین کو ذریعہ بنایا ہے۔پس جو شخص اللہ تعالیٰ کی معرفت اور رضا اور قرب اور محبت حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ وقت کے مامور مجد داورا مام کو مانے اور اس زمانہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو مامور و مجدد بنا کر بھیجا ہے۔اُن کی شناخت اور ان کی پیروی کئے بغیر اب کسی کو نہ خدائے تعالیٰ کی معرفت حاصل ہو سکتی ہے نہ ہی قرب۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب سے انہوں نے دعوی کیا ہے دنیا کے تمام مسلمانوں پر آسمان کے دروازے بند ہو چکے ہیں اور کوئی پیر، کوئی