حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 68 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 68

حیات بقاپوری 68 اس کے بعد میں نے ٹھیک یہ کثیر آکا جواب دیا کہ دیکھوا گر صرف سزا کا ذکر کیا جائے اور اس فعل کا ذکر نہ کیا جائے جس کے نتیجہ میں سزادی گئی ہے تو اُسے بے انصافی سمجھا جاتا ہے۔مثلاً اگر کوئی مجسٹریٹ کسی مجرم کو پھانسی کی سزا دے دے اور ساتھ جرم نہ جتلائے اور اس جرم کے وقوع ہونے کے دلائل نہ دے تو سارا جہاں اُسے ظالم اور بے انصاف قرار دے گا۔لیکن اگر سزا کے ساتھ مجرم کے جرم کو سچی شہادتوں کی بناء پر پختہ دلائل سے ثابت کر دے تو ہر ایک انسان یہی کہے گا کہ مجسٹریٹ نے انصاف سے کام لیا ہے اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔یہی حقیقت اس کے بعد بیان کی گئی ہے۔جیسا کہ فرمایا وما يحصل پہ الا الفاسقین (۲۷:۲)۔شانتی سروپ صاحب آدھی آیت پڑھتے ہیں یعنی سزا کا ذکر کرتے ہیں۔لیکن آگے جو سزا دینے کی وجہ بیان کی گئی ہے اُسے چھوڑ جاتے ہیں۔یعنی لا تقربوا الصلوۃ پڑھ کر چپ کر جاتے ہیں اور آگے واشتم شکری (۴۴۰۴) کو چھوڑ دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ میں یہ سزا ان کو دیتا ہوں جو فاسق ہیں یعنی جان بوجھ کر نا فرمانی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑتے ہیں اور احکام اٹھی کو نظر انداز کرتے ہیں زمین میں فساد مچاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔کیا ایسے لوگوں کو کوئی سزا نہ ہونی چاہیے تھی ؟ اگر مجرم کو سزا نہ دی جائے تو دنیا سے امان اٹھ جائے۔جب میں اپنی تقریر ختم کر چکا اور اُٹھ کر جانے کے لیے تیار ہوا تو مسلمان کہنے لگے۔مولوی صاحب تشریف رکھیں ہم بیماری پوچھ کر جائیں گے۔آریوں نے دیکھا کہ کام بگڑتا نظر آتا ہے۔کو توالی میں اطلاع دی۔وہاں پر ہمارے محکم الدین صاحب کا بیٹا تھا اس نے کہا کہ جانے دو یہ کیا جواب دیں گے۔اس واقعہ سے سارے شہر میں احمدیت کا خوب چرچا ہوا اور ہر جگہ احمدیت کی تعریف ہونے لگی۔۲۲- مولوی ثناء اللہ کے محلے میں تقریر امرت سر کے قیام کے زمانہ میں میرا طریق یہ تھا کہ ہفتہ کی شام کو کسی نہ کسی احمدی کے مکان پر مختلف محلوں میں صداقت مسیح موعود علیہ السلام کے موضوع پر تقریریں کیا کرتا تھا۔ایک بار میاں عبدالرشید صاحب ہیڈ ڈرافٹسمین جو میاں فیملی لاہور کے ممبر ہیں اور کٹر ہ سفید امرت سر میں رہتے تھے، ان کے مکان پر تقریر کرنے کی تجویز ہوئی۔چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب اس محلہ میں رہتے تھے اس لیے اندیشہ تھا کہ وہ اپنے مذاق کے کسی مولوی کو بھیج کر