حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 67 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 67

حیات بقاپوری 67 ٹھونس لے تو آہستہ آہستہ اس کی قوت شنوائی جاتی نہ رہے گی۔یہی حقیقت قرآن کریم نے بیان کی ہے کیونکہ منکرین اس بات کو نہیں سوچتے کہ یہ وقت واقعی کسی مامور کے ظہور اور کسی صداقت کے پھیلنے کا ہے۔کیونکہ روحانی امراض کثرت سے پھیل گئیں۔ان سے لوگوں کو بچانے کے لیے اور ہلاکت اور تباہی سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک مامور نے اعلان کیا لیکن لوگوں نے کان نہ دھرے اور انکار سے پیش آئے تو اللہ تعالیٰ نے نشان پر نشان دکھلائے۔لوگوں نے آنکھوں سے کام نہ لیا۔شانتی سروپ صاحب ! پہلا تصور دل کا ہے کہ اس سے کام نہ لیا، اس لیے اس پر مہر لگ گئی۔دوسرا قصور کانوں کا ہے کہ مامور وقت کی آواز کو نہ سُنا پس اُن پر بھی مہر لگ گئی۔پھر آنکھوں کا ہے کہ صداقت مامور کے نشانات دیکھ کر چشم بصیرت کو نہ کھولا۔پس اُن پر پردے پڑ گئے۔جیسا جیسا قصور اسی طرح سزا دی گئی۔یہ ایک صداقت ہے، حقیقت ہے، جسے قرآن پاک نے بیان کر کے دریا کو کوزہ میں بند کر دیا نہ کہ جائے اعتراض۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے اور کچی کتاب ہے۔اسے جب میں نے مفصل بیان کیا تو وہ گھبرا گیا اور بار بار اپنا پسینہ پونچھتا تھا اور اُدھر سے مسلمان جزاکم اللہ ، جزاکم اللہ کہتے تھے۔اور کوئی شربت وغیرہ پینے کی پیشکش کرتا تھا کوئی چھتری لے کر سایہ کر رہا تھا ( کیونکہ گرمی کا موسم تھا)۔میں یہ کہتا تھا کہ اس وقت دعائیں کرو کہ اسلام کا کلمہ بلند ہو۔اللہ تعالیٰ کے دین کی عزت ظاہر ہو۔اور اپنی تقریر کے آخر میں پھر یہ مطالبہ دہرایا کہ بیماری اور علاج بتلاؤ۔شانتی سروپ اٹھا اور کہنے لگا کہ جب قرآن کہتا ہے۔ٹھیک یہ کثیر (۲: ۲۷) تو لوگوں کا کیا قصور۔اور میرے جواب پر اس نے کوئی تنقید نہ کی۔اور دوسری آیات پڑھتا رہا۔جس سے حاضرین سمجھ گئے کہ اس کے پاس میرے دلائل کا جواب نہیں۔وہ بیٹھا تو میں اُٹھا اور میں نے کہا یہ میرے تیسری ٹرم ہے پھر اس کے بعد مجھے کچھ کہنے کا موقعہ نہ دیا جائے گا۔میں افسوس کرتا ہوں اور لوگ بھی منتظر تھے کہ آپ اپنی بیماری جتلاتے اور علاج کا پتہ دیتے مگر آپ نے نہ بیماری بتلائی نہ علاج سے آگاہ کیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسی بیماری تھی جس کا علاج اسلام نے روزے رکھنے بتایا ہے اور یہ روزے نہیں رکھ سکے اور ادھر آکر ان کو اس بیماری کا علاج مل گیا۔کیونکہ آریہ مذہب میں نیوگ جائز ہے جو ان کی بیماری کا قرار واقعی علاج تھا۔اس پر مسلمان جوش میں آکر خوب اچھلے اور بہت شور پڑ گیا کہ ٹھیک ٹھیک !! ٹھیک !!! یہی بیماری تھی جس کا نام لیتے ہوئے شانتی سروپ صاحب گھبراتے تھے۔آخر مولوی صاحب نے مرض معلوم کر ہی لیا۔( نیوگ: اولاد حاصل کرنے کے لئے خاص رسم۔مرتب)