حیاتِ بقاپوری — Page 69
حیات بقاپوری 69 تقریر میں گڑ بڑ ڈلوائیں گے۔میں نے اسی محلہ کے ایک دلال مولا بخش نامی کو جو میرا واقف تھا اور لوگوں کو کہا کرتا تھا کہ یہ ثناء اللہ سے اچھے ہیں اور ہمارا مداح تھا، بُلایا اور کہا کہ میرا اس محلہ میں تقریر کرنے کا ارادہ ہے آپ بھی آجا ئیں۔اندیشہ ہے کہ کوئی تقریر میں بولے اور بدمزگی پیدا ہو۔اس نے کہا آپ کوئی فکر نہ کریں میں اپنے دو چار آدمی لیکر آ جاؤں گا۔وہاں پر ہم میں بہتیں احمدی تھے اور تین چار آدمی وہ بھی آگئے اور پانچ اسی محلہ کے مولوی ثناء اللہ نے اپنے مولویوں کے ساتھ بھیجوائے۔میں نے تقریر شروع کی تو مولوی تقریر کو خراب کرنے کے لیے گڑ بڑ کرنے لگے۔مولا بخش نے کہا۔مولوی صاحبان میں یہاں موجود ہوں آپ اطمینان رکھیں اس مرزائی مولوی کو اب جانے نہ دیں گے۔آپ اسے تقریر کر لینے دیں۔سنیں تو سہی یہ کہتا کیا ہے۔اس پر وہ خاموش ہو گئے اور تقریر سنتے رہے۔میں نے تقریباً ایک گھنٹہ تقریر کی۔جب میں اپنی تقریر ختم کر چکا تو ایک مولوی اٹھا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب! مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ مرزا صاحب نے مباہلہ کیا تھا۔لیکن مولوی صاحب تو زندہ ہیں اور مرزا صاحب فوت ہو گئے۔اس کا جواب دیں؟ میں جواب دینے ہی لگا تھا کہ مولا بخش کہنے لگا مولوی صاحب آپ خاموش رہیں۔اور اس نے مولوی سے مخاطب ہو کر کہا واہ مولوی صاحب آپ نے یہ کیا سوال کیا ہے؟ وہ تو اس کے جواب میں جلدی سے کہہ دیں گے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے خود لکھا تھا کہ حرامزادے کی رسی دراز ہوتی ہے۔واہ کیا تم اپنے مولوی کو حرامزادہ ثابت کرنے لگے ہو۔جاؤ مرزائیو جاؤ تمہارے دلائل ہم نے سُن لیے ہیں۔اٹھو جی ہم بھی چلتے ہیں۔چنانچہ مجمع برخاست ہو گیا۔ان ہی دنوں میں میاں سراج الدین موذن مسجد اقصی درویش قادیان احمدی ہوئے تھے۔۲۵ مرکز سے گزارہ لینا ایک غیر احمدی مولوی نے ایک دفعہ دوران بحث میں تنگ آکر مجھے کہا۔تم کو قادیان سے پانچ روپے ماہوار ملتے ہیں اس وجہ سے تم احمدی ہو گئے ہو۔میں نے کہا آپ مجھ سے لائق ہیں۔آپ کے بھی دس روپے ماہوار لگوادوں گا آؤ چلو قادیان چلیں۔کہنے لگا میں کیوں دس روپے کے لیے اپنا ایمان بیچوں۔میں نے جواب دیا کہ کیا میرا ایمان ہی اس قدر بودا اور کمزور ہے؟ اس پر لوگوں نے اُسے شرمندہ کیا کہ یہ کیسی کچھی بات تو نے اُن کے مقابلہ میں پیش کی ہے۔