حیاتِ بقاپوری — Page 48
حیات بقاپوری 48 ہیں وہ جلالین کی عبارت پڑھتے ہی غصہ سے آگ بگولا ہو گیا اور چلا کر کہنے لگا۔ارے حنفیو! تم نے یہ کیا غضب ڈھایا ہے؟ کیا ایسا ظالمانہ عقیدہ کسی مسلمان کہلانے والے محب رسول پاک کا ہو سکتا ہے؟ جب پیر صاحب نے دیکھا کہ ہمارا صدر ہی ہمیں ملزم کر رہا ہے تو آپے سے باہر ہو کر کہنے لگا کہ کیا مرزا صاحب محمدی بیگم پر عاشق نہیں ہو گئے تھے؟ میں مولویوں کی کتاب سے حوالہ دکھاتا ہوں۔میں نے کہا اس کی ضرورت نہیں اس کی ضرورت نہیں میں مانتا ہوں کہ کسی نا پاک دل مولوی نے ایسا لکھا ہوگا۔مگر ہمارے نزدیک ایسی کتاب جلانے کے لائق ہے اور لکھنے والا بے ایمان فاسق ہے جو بہتان لگانے کی وجہ سے اتنی دڑے کھانے کا مستحق ہے۔کیا تم بھی جلالین کی روایت کے متعلق ایسا کہنے کو تیار ہو؟ اس پر کچھ جواب دینے کی بجائے پیر صاحب نے کہا کہ ہم مباحثہ ہی نہیں کرتے۔اسی وقت ایک شخص مجمع سے اُٹھا اور بلند آواز سے کہنے لگا۔میں آج سے احمدی ہو گیا ہوں واقعی حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات قرآن پاک سے ثابت ہے اور حضرت مرزا صاحب اپنے دعوئی میں بچے اور راستباز ہیں۔مخالف مولوی پر حق کا رعب 1919ء میں جب میرا تقر ر راولپنڈی میں تھا ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سید محمد اشرف صاحب مرحوم، ملک نورالدین صاحب مرحوم اور ماسٹر محمد رمضان صاحب مرحوم کے ساتھ مجھے چنگا بنگیال جانے کا اتفاق ہوا۔اور ایک ہفتہ تقریریں کرنے اور تبلیغ کا فریضہ سر انجام دینے کا موقعہ ملا۔اسی دوران میں کسی دوسرے گاؤں سے مولوی محمد فضل صاحب کا ایک بھانجا آیا جسے میں نے کہا کہ ہم تمہارے گاؤں میں بھی تبلیغ کے لیے آئیں گے۔اس پر مولوی محمد فضل صاحب کہنے لگے کہ اس کے گاؤں کا نمبر دار بہت شریر ہے وہ اپنی قوم کے شفقی مولوی کی بے عزتی کے بغیر بھی نہیں نکلتا۔آپ تو احمدی ہیں اور پھر غیر قوم سے۔ممکن ہے وہ بے ادبی کرے اور سختی سے پیش آئے۔اس لیے آپ کو وہاں نہیں جانا چاہیے۔میں نے کہا کہ اعلائے کلمتہ اللہ کے لیے بیغرتی بھی ہو تو موجب عزت ہے۔اور مولوی صاحب کے بھانجے سے کہا کہ اس بات کا ذکر اپنے نمبر دار سے کر دینا کہ وہ ہمیں اپنے گاؤں میں تبلیغ حق کی اجازت دیدے۔اس پر نمبردار نے اپنے بھائی کو ہمارے پاس بھیجا کہ آپ کو اجازت ہے۔آپ کل رات مغرب کے معاً بعد ہمارے گاؤں میں آکر وعظ کریں۔شرط یہ ہے کہ ہم آپ کی تقریر کے بعد اپنے مولوی سے سوال و جواب کرائیں گے۔میں