حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 47 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 47

حیات بقاپوری 47 لیتے ہیں کیا یہ حدیث صحیح نہیں؟ میں نے کہا صحیح تو ہے لیکن میرے نزدیک اس سے مراد روحانی قبر ہے۔جیسا کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا تم امانہ فا تیرہ یہ مٹی کی قبر مراد نہیں۔جب صحابہ نے عذاب قبر کے متعلق حضور سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا تھا القبر رَوْضَةِ مِن رَيَاضِ الْجَيَّة أو حفرة من حجر العمران۔اگر قبر سے مراد یہ قبر ہو جو آپ مراد لیتے ہیں تو تمام ہندو جو جلائے جاتے ہیں عذاب قبر اور منکر نکیر کے سوال جواب سے محفوظ ماننے پڑتے ہیں۔اور پارسیوں کے مردے جنہیں گدھیں کھا جاتی ہیں۔اسی طرح جو مردے سمندر میں پھینکے جاتے ہیں اور انہیں مچھلیاں کھا جاتی ہیں ان سب کے متعلق ماننا پڑتا ہے کہ وہ بھی عذاب قبر سے بچ جائیں گے۔پس اس حدیث میں ظاہری قبر مراد نہیں بلکہ روحانی قبر مراد ہے۔اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا رویاء جس میں انہوں نے دیکھا تھا کہ تین چاند میرے حجرے میں گرے ہیں اس سے بھی میرے مضمون کی تائید ہوتی ہے۔چوتھی قبر کی ظاہری طور پر بھی وہاں کوئی جگہ نہیں۔پس قبر سے روحانی قبر مراد ہے جس میں ہر ایک سے سوال و جواب ہوتا ہے اور اس حدیث میں حضور نے مسیح محمدی سے اپنے اتحاد کامل کی صراحت فرمائی ہے نہ کہ نعوذ باللہ حضور کی قبر کھود کر اس میں اُس کو دفن کئے جانے کا بیان فرمایا ہے۔میری اس تقریر سے سب حاضرین بہت متاثر ہوئے اور میرے بیان کی تصدیق کی۔- بل رفعہ اللہ الیہ میں آسمان کا ذکر نہیں جن دنوں میں سندھ میں امیر التبلیغ تھاوہاں کے ایک پیر معین الدین ساکن سکرنڈ کا ایک مرید احمدی ہو گیا تو اس نے تین مولوی منگوا کر مجھ سے بحث کروائی۔ہماری طرف سے مناظرہ کے پریذیڈنٹ ماسٹر محمد پریل صاحب تھے اور حنفیوں کے پریذیڈنٹ ایک شیعہ ذاکر تھے۔جب حفی مولوی صاحب نے حیات مسیح ناصری علیہ السلام کی تائید میں بل رفعہ اللہ الیہ (۱۵۹:۴) والی آیت پڑھ کر ترجمہ کیا کہ اُسے اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اٹھا لیا تو میں نے کہا مولوی صاحب کیا آسمان کا لفظ قرآن کریم میں ہے؟ مولوی صاحب کہنے لگے کہ قرآن مجید میں تو نہیں تفسیر جلالین میں ہے۔اس پر میں نے کہا کہ تفسیر جلالین میں جو کچھ لکھا ہے کیا آپ اُسے صحیح مانتے ہیں؟ مولوی صاحب کہنے لگے جو کچھ تغیر میں لکھا ہے وہ سب صحیح ہے میرا اس پر ایمان ہے۔میں نے تفسیر جلالین کے بائیسویں پارہ میں سے وہ روایت نکال کر پریذیڈنٹ ذاکر صاحب کو دی جس میں یہ بہتان لکھا ہوا ہے کہ نعوذ باللہ من ذالک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زینب پر عاشق ہو گئے تھے۔چونکہ شیعہ صاحبان بھی ہماری طرح عصمت انبیاء علیہم السلام کے قائل