حیاتِ بقاپوری — Page 381
حیات بقاپوری 381 میرے ذہن نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کا سوچا۔میں نے حضرت مولانا بقا پوری صاحب کو اپنے مسئلے کے متعلق لکھا۔اور ان سے درخواست کی کہ دعا کریں۔آٹھ یا دس دن کے بعد مجھے ان کی طرف سے ایک پوسٹ کارڈ ملا۔جس میں لکھا تھا کہ انہوں نے میرے لیے دعا کی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اطلاع دی ہے کہ میرا تبادلہ ہو جائے گا۔اس کے بعد جلدی جلدی خلاف توقع تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔وہ آڈیٹر جنرل تبدیل ہو گئے۔ایک نئی کارپوریشن معرض وجود میں آگئی۔جس کا نام ویسٹ پاکستان ایگری کلچرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن تھا۔اس کارپوریشن کے فائینس ممبر ( جو کہ ہمارے خاندان میں معروف تھے ) نے میری تلاش شروع کی تاکہ مجھے لاہور میں اپنی کارپوریشن میں کام پر لگا سکیں۔انہوں نے نئے آڈیٹر جنرل سے درخواست کی جو کہ ان کے دوست تھے۔کہ وہ میری تبدیلی لاجور کروادیں۔میرے نئے سب سے بڑے آفیسر نے اس پر صاد کیا اور بطور سپیشل کیس میرے متعلق حکومت سے حکومت کے قوانین میں نرمی حاصل کر کے مجھے لاہور متعین کر دیا۔اور یہ سب کچھ حضرت مولانا بقا پوری صاحب کی دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے طفیل دو مہینے کے اندر ہو گیا۔الحمد للہ اور اس طرح میں اپنی بیمار والدہ کی خدمت کرنے کے قابل ہوسکا۔مکرم مرزا مقصود احمد صاحب سابق امیر جماعت احمد یہ پشاور حضرت مسیح موعود کی طرح ان کے صحابہ بھی عظیم شان رکھتے تھے۔ان صحابہ کے اوصاف اور روحانی صلاحتیں بھی عظیم تھیں جو کہ بڑے بڑے نشانات دکھاتے رہے۔اور ان کے ذریعہ سے روحانیت کی روشنیاں پھیلتی رہیں۔اس وقت جس بزرگ صحابی کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ حضرت مولانامحمد ابراہیم صاحب بقا پوری ہیں۔میں نے اپنا بچپن اکثر ان جیسے عظیم المرتبت ہستیوں کے ساتھ گزارا ہے۔میرے والد مرحوم مرزا غلام رسول صاحب بھی حضرت مسیح موعود کے ساتھیوں میں سے تھے۔حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری بڑے ہی دعا گو انسان تھے۔ان کو اللہ تعالیٰ نے قبولیت دعا کا خاص شرف عطا کیا تھا۔میں نے بڑے غور سے انکو دعا کرتے ہوئے مشاہدہ کیا ہے۔وہ بہت غور سے بات سنتے اور