حیاتِ بقاپوری — Page 382
حیات بقاپوری 382 پھر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے۔اور ایسے انتہاک اور تضرع سے دعا کرتے کہ آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگتے۔میں پشاور کا رہنے والا ہوں۔ربوہ میں جلسہ سالانہ میں شرکت کرنے کہ لیے با قاعدہ جاتا تھا۔میں نے پشاور میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر مغل پورہ کالج آف انجینیئر نگ سے سول انجینیئر نگ کی ڈگری حاصل کی اور پشاور میں سرکاری ملازمت اختیار کی۔اور صوبہ سرحد کے پی ڈبلیوڈی میں ایس ڈی او ہو گیا۔جب ترقی کا وقت آیا تو بہت سے غیر احمدی افسروں کو مجھ پر سبقت دی گئی جس کا مجھے بہت دکھ ہوا۔چونکہ بچپن ہی سے دعا کی قبولیت اور طاقت پر یقین تھا اپنی کم مائیگی کو دیکھ کر میں نے پاک دعا گو بزرگ ہستیوں کی تلاش شروع کر دی۔حضرت مولانا محمد ابراہیم صاحب بقا پوری ان دنوں ربوہ میں صدر انجمن احمدیہ کے کواٹروں میں رہائش پذیر تھے۔چنانچہ میں ایک دن ان کے گھر ربوہ میں جا پہنچا۔اس وقت آپ بہت ضعیف ہو چکے تھے اور عمر میں اسی سال سے تجاوز فرما چکے تھے۔کمرہ بہت صاف ستھرا تھا۔کمرے میں چار پائی تھی جس پر آپ لیٹے ہوئے تھے۔چارپائی کے پاس ایک کرسی تھی جس پر مجھے بٹھا گیا۔سلام کے بعد میں نے اپنا تعارف کرایا آپ لیٹے ہوئے تھے تعارف پر آپ اٹھنے کی کوشش میں بیٹھ گئے اور پھر کھڑے ہونے کے لیے زور لگانے لگے۔میں نے بہت تکرار سے عرض کی آپ بہت کمزور ہیں اٹھنے کی تکلیف نہ کریں۔لیکن آپ کوشش کر کے آہستہ آہستہ کھڑے ہو گئے اور مجھ سے بغلگیر ہوئے۔اور پھر چار پائی پر بیٹھ گئے میں نے انکو اپنی سرگذشت سنائی۔وہ میرے ساتھ بڑی ہی ہمدردی سے پیش آئے پھر چائے سے میری تواضع کی۔سب سے زیادہ جس سے میں متاثر ہوا وہ انکی سادگی اور اعلیٰ اخلاق تھے۔ان سے گفتگو کے نتیجہ میں مجھے بہت تسلی ہوئی اور اس طرح بعد میں بھی ان سے ملنے کے مواقع میسر آتے رہے۔جب ان کے بیٹے میجرمحمد اسحاق بقا پوری کی تعیناتی پشاور میں ہوئی اور حضرت مولا نا بقا پوری صاحب اپنے بیٹے کے پاس پشاور میں قیام پذیر ہوئے تو ہم زیادہ نزدیک ہو گئے۔اور ہمارے تعلقات زیادہ گہرے ہو گئے۔پشاور میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد حضرت مولانا واپس ربوہ تشریف لے گئے۔اس دوران میں میرے محکمہ کے بالا افسران میرے بہت زیادہ خلاف ہو گئے اور مجھے ملازمت سے نکالنے کے درپے ہو گئے۔میرے محکمہ کے دو بڑے سینیئر افسر تو ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گئے۔ان کا اثر رسوخ بھی بہت زیادہ تھا۔جوں جوں وقت گذرتا گیا ان افسروں کی مخالفت بڑھتی گئی۔چنانچہ میں نے حضرت مولا نا بقا پوری صاحب کو ایک خط کے ذریعہ تمام حالات لکھ کر خاص دعا کی درخواست کی۔کچھ عرصہ بعد ان کا جواب موصول ہوا۔ان دنوں محکمہ ڈاک میں لفافوں اور پوسٹ کارڈوں کا رواج تھا۔حضرت مولانا کا جواب پوسٹ کارڈ کے ذریعہ موصول ہوا۔وہ کارڈ میں نے اب تک اپنے پاس محفوظ رکھا ہوا ہے۔جو کہ دعا کی قبولیت کے نشان کا ثبوت ہے۔اس پوسٹ کارڈ کے ذریعہ حضرت مولانا نے تحریر فرمایا کہ ان دونوں مخالف افسروں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایک افسر وقت سے