حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 377 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 377

حیات بقاپوری 377 ے۔حضرت والد صاحب کو آخری ایام میں پیشاب کی بندش کی تکلیف ہو گئی تھی کہ وہ متواتر کیتھیٹر سے پیشاب نکالنا پڑتا۔میں شروع مارچ ۱۹۶۳ء میں رخصت لیکر پشاور سے ربوہ آیا اور آپ کو بذریعہ ایمبولینس لا ہورسی ایم ایچ لایا۔اور آفیسرز وارڈ میں داخل کرایا۔وہاں کے کمانڈنگ آفیسر میرے پرانے کمانڈنگ آفیسر رہ چکے تھے۔انہوں نے کمال مہربانی سے ایک نرسنگ اردلی کی سپیشل ڈیوٹی لگادی۔مجھے بھی معلوم تھا اور حضرت والد صاحب کو بھی معلوم تھا کہ یہ انکی زندگی کا آخری سفر ہے۔سی۔ایم۔ایچ میں ان دنوں کرنل ( اب جنرل ) محمود الحسن صاحب سرجن تھے اور انکی تجویز تھی کہ حضرت والد صاحب کا پراسٹیٹ کا اپریشن کر دیا جائے۔لیکن حضرت والد صاحب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی ہے کہ تمہارا اپریشن نہیں ہوگا اور واقعی حالات ایسے ہو گئے کہ ان کا اپریشن نہ ہو سکا۔اپنی وفات سے تین دن قبل مجھے اپنے پاس بٹھا لیا اور میری کمر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے رہے اور میں روتا رہا۔پھر آپ نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھا لئے۔میں بھی دعا میں شامل ہو گیا۔بعد دعا فرمایا کہ مبارک ہو میں پاس ہو گیا ہوں۔پھر فرمایا مبارک ہو تم بھی پاس ہو گئے ہو۔پھر فرمایا کہ پشاور جا کر میری بہو اور بچوں کو لے آؤ انکو دیکھنے کو جی چاہتا ہے ے امارچ ۱۹۶۳ ء نماز ظہر کے بعد جبکہ میں پاس ہی کھڑا تھا میں نے بھی نظارہ دیکھا کہ آپ کی والدہ ایک سرسراہٹ کے ساتھ (جو صاف سنی گئی ) آپ کے اوپر سے گذریں۔حضرت والد صاحب جو کہ اس وقت بیہوش تھے نے بے چینی سے اپنے دونوں بازو پھیلا دئے اور حضرت دادی جان صاحبہ کے گذر جانے کے بعد باز و نیچے گر گئے۔شام کے قریب حضرت والد صاحب کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔۱۸ مارچ ۱۹۶۴ء کو عصر کے وقت حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی اور آپ بہشتی مقبرہ میں اپنے دوست حضرت مولانا را جیکی صاحب کے پہلو میں دفن ہوئے۔محترم ماسٹر علی محمد صاحب ہے۔اے، بی۔ٹی تحریر فرماتے ہیں: قادیان میں ایک مکینیکل کمپنی میں میرے تین ہزار روپے کے حصص تھے۔اور وں کے بھی تھے۔پارٹیشن کے بعد اس کمپنی کے ڈائریکٹر نے شیئر ہولڈرز کے مفاد میں کچھ نہ کیا۔لیکن کمپنی کے مینجر نے جو کہ خود بھی حصص کے مالک تھے اپنے طور پر سرگودھا کی عدالت میں کلیم دائر کر دیا۔اور انکی مسلسل تگ و دو سے وہ کمپنی کے حصص کے مالکان