حیاتِ بقاپوری — Page 376
حیات بقا پوری 376 بٹھا یہ تو کوی ولی اللہ معلوم ہوتے ہیں۔حضرت والد صاحب سے معافیاں مانگی گئیں اور ان کو آگے بٹھایا گیا اور شیشہ اپنی جگہ پر لگا دیا گیا۔۔حضرت والد صاحب میں حس مزاح بھی تھی۔ایکد فعہ ہمارے ایک رشتہ دار سمی ضیاء اللہ ابن عطاء اللہ ربوہ میں حضرت والد صاحب سے ملنے آئے۔انہوں نے اس خیال سے کہ حضرت بوڑھے ہیں، اونچا سنتے ہونگے آپ سے اونچی آواز سے خطاب کیا۔حضرت اسکی بات سنتے رہے۔جب اسنے اپنی بات ختم کی تو حضرت نے بہت ملائمت سے پوچھا کیوں کیا عطاء اللہ اونچا سنتا ہے اور ضیاء اللہ شرمندہ ہو گیا۔۔ایک دفعہ حضرت والد صاحب ربوہ سے لاہور آئے۔مجھے فرمانے لگے کہ میں کل یہاں آیا اور آج میں فلاں کے ہاں ملنے گیاوہ۔جماعت کی ایک مقتدر ہستی تھی۔فرمانے لگے کہ اس نے مجھے کہا کہ مولوی صاحب آپ نے یہ کیا کیا میں یہاں رہتا ہوں آپ بجائے میرے ہاں رہنے کے D/102 میں رہائش پذیر ہوئے۔میں نے پوچھا آپ نے کیا جواب دیا تو فرمانے لگے کہ میں خاموش ہی رہا۔میں نے عرض کی کہ دوبارہ ملاقات ہو تو آپ ان سے وضاحت فرما دیں کہ D/102 میرے بیٹے کا اور میرا اپنا گھر ہے۔میں اپنے گھر میں ہی رہتا ہوں۔حضرت نے مجھے فرمایا کہ واقعی مجھ سے غلطی ہوئی مجھے ایسا ہی کہنا چاہئے اور ان صاحب سے جب ملاقات ہوئی تو حضرت نے اپنے 1020 میں قیام کی وضاحت فرما دی۔اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت والد صاحب اپنی غلطی کو تسلیم کرنے پر کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتے تھے۔ایک دفعہ پشاور میں جبکہ حضرت والد صاحب مولا نا بقا پوری وہاں میرے پاس قیام پذیر تھے۔آپ نے مجھ پر کسی بات پر ناراضگی کا اظہار کیا۔میں جب رات کو حضرت کے سونے سے قبل انکو چاپی کرنے گیا تو حضرت نے ہنس کر فر مایا کہ اچھا میں تو سمجھا تھا کہ میری ناراضگی کی وجہ سے تم آج چاپی کیلئے نہیں آؤ گے۔میں نے عرض کیا کہ آپ ناراض ہوئے وہ آپ کا حق تھا۔یہ چاپی کرنا میرا فرض ہے۔اس پر حضرت والد صاحب نے جو میرے حق میں دعا میں فرما ئیں آپ اسکا اندازہ نہیں کر سکتے۔-1 مکرم خالد ہدایت صاحب بھٹی نے بیان کیا کہ جن دنوں وہ گجرات میں تعینات تھے انکو کچھ محکمانہ مشکلات پیش آئیں۔وہ حضرت مولانا بقا پوری صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی مشکلات بیان کر کے دعا کی درخواست کی۔حضرت نے اسی وقت دعا کیلئے ہاتھ اُٹھا دیئے۔ہدایت بھٹی صاحب بھی ساتھ ہی شامل ہوئے۔بعد دعا فرمایا تمہاری مشکلات دور ہونگی۔چنانچہ ایک ہفتہ کے اندر مشکلات دور ہو گئیں۔الحمد اللہ۔دور