حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 37 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 37

حیات بقا پوری 37 کیا نبی جھوٹ بولتا ہے؟ خلافت ثانیہ کی ابتداء میں گوکھو وال ضلع لائل پور کی جماعت نے اپنے تبلیغی جلسہ پر مجھے بھی بلایا۔مخالفین نے مولوی محمد حسین کو (جس کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں ) لائل پور سے منگوایا۔جب اس سے بحث کا سلسلہ چلا تو اس نے اعتراض کیا کہ محمدی بیگم والی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔میں نے کہا کہ حضرت مرزا صاحب کی کوئی پیشگوئی تمہارے نزدیک پوری ہوئی بھی ہے یا نہیں؟ اس نے کہا کہ بہت کی پیشگوئیاں پوری ہوئی ہیں صرف دو پوری نہیں ہوئیں۔محمدی بیگم والی اور ثناء اللہ والی محمدی بیگم کا خاوند بھی زندہ ہے اور مولوی ثناء اللہ صاحب بھی زندہ ہیں۔میں نے کہا کہ خوب اچھی طرح سوچ لو اگر کوئی تیسری پیشگوئی بھی ایسی ہو جو آپ کے نزدیک پوری نہ ہوئی ہو تو اس کا بھی ذکر کرو تا کہ میں پیشگوئیوں کو پرکھنے کا گر مجموعی طور پر بتاؤں۔اس نے کہا نہیں مجھے صرف ان دو پیشگوئیوں پر اعتراض ہے۔میں نے کہا ، اچھا تھوڑی دیر کے لیے میں مان لیتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب کی یہ در پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں۔باقی سب پوری ہوگئی ہیں۔اور قرآن کریم میں ایک گر جتلایا گیا ہے: قران بیگ صادق بصبكُم بخفض الَّذِي يَعِدُكُم ( ۲۹:۴۰)۔کہ بعض پیشگوئیاں پوری ہو جائیں اور بعض تمہارے معیار کے مطابق پوری نہ اتریں تو بھی مدگی سچا ہے۔اب تم اعتراض کرو۔اس پر اس مولوی نے کہا کہ مرزا صاحب بچے نبی نہیں ہو سکتے کیونکہ انہوں نے ڈبل جھوٹ بولا ہے ایک نہیں دو جھوٹ ثابت ہوئے اور جھوٹا شخص نبی نہیں ہوسکتا۔میں نے جلدی سے تفسیر محمدی کا جو میرے پاس تھی وہ مقام نکال کر پیش کیا، جہاں پر لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے (العیاذ باللہ ) تین جھوٹ بولے۔حالانکہ تم باوجود اس بات کے ان کو صدیق ہی مانتے ہو جیسا کہ قرآن کریم میں ان کو صدیق بنی کہہ کر بیان کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ان کے تین جھوٹ بولنے کے بھی قائل ہو۔میرا یہ بیان سُن کر وہ غیر احمدی زمیندار جو اس مولوی کو لائے تھے مجھ سے پوچھنے لگے کہ کیا واقعی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین جھوٹ بولے تھے؟ میں نے کہا کہ نہیں میں تو نہیں مانتا۔البتہ تمہارے مولوی کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین جھوٹ بولے تھے۔اس پر غیر احمدیوں نے اپنے مولوی سے پوچھا کہ کیوں مولوی صاحب ! کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین جھوٹ بولے تھے؟ مولوی صاحب نے کہا کہ ہاں حدیث میں لکھا ہوا ہے۔اس پر وہ چوہدری جو اُ سے لایا تھا بہت غصہ ہوا اور غصہ سے کہنے لگا کہ جاؤ یہاں سے نکل جاؤ۔پھر مجھ سے ان لوگوں نے کتاب دیکھنے کے لیے لے لی -