حیاتِ بقاپوری — Page 36
حیات بقاپوری 36 کے نتیجہ میں فیوض اور برکات کا علم ہو، کچھ واقعات اور بعض رویاء و کشوف اور الہامات پیش کرتا ہوں جن سے اللہ تعالیٰ نے مجھ ناچیز کو نوازا۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: اللہ ولع الَّذِین امنو او م مِن الظُّلمت إلى النور (۲۵۸:۳) - که اللہ تعالیٰ مومنوں کا ولی ہے اور اس کے ولی (دوست) ہونے کی علامت یہ ہے کہ ان کو اندھیروں (مشکلات اور مصائب) سے نکال کر روشنی اور ہدایت اور اپنی نورانیت کی طرف لے جاتا ہے۔اس کے بعد اس نور کی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں۔پہلی قسم کا نور یہ کہ مومنوں کو مخالفوں کے مقابلے میں پختہ دلائل سمجھا کر غلبہ عطا کیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے: الم تر الی الذی حاج ابر امنیم فی ریه آن آتاه الله الملك - (۲۵۹:۲) اس آیت میں ایک مباحثہ کا ذکر ہے جو بادشاہ وقت اور حضرت ابراہیم کے درمیان ہوا تھا۔اُس میں حضرت ابراہیم کو خدا نے ایسے ایسے دلائل سمجھائے کہ بادشاہ مبہوت ہو کر رہ گیا۔نور کی دوسری قسم کا ذکراہ گالی مز علی قریہ (۲۶۰:۲) میں پایا جاتا ہے۔نور کی یہ تم رویاء دوکشوف سے تعلق رکھتی ہے کیونکہ اس آیت میں حز قیل نبی کے ایک رویاء کا ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم مومنوں کو رویاء و کشوف دکھلا کر ظلمت سے نور کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔نور کی تیسری قسم کا ذکر و اذ قال ایرانیم ترپ آرمی گیفت محي الموطی (۲۶۱:۲) میں ہے کہ اللہ تعالی کے اولیاء کے سپرد تبلیغ کا کام کیا جاتا ہے جس سے ظلمت میں گرفتار لوگوں کو ہدایت اور ابدی حیات بخشی جاتی ہے اور اولیاء اللہ اس قدر نور الہی حاصل کر لیتے ہیں کہ نہ صرف خود ظلمتوں سے رہائی حاصل کر لیتے ہیں بلکہ دوسروں کو کفر و شرک کی ظلمتوں سے نجات دلانے کا کام بھی ان کے سپر د کر دیا جاتا ہے۔سب سے پہلے یہ خاکسار تحدیث نعمت کے طور پر پہلی قسم سے متعلق واقعات کا ذکر کرتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے مجھے مخالفوں کے مقابلے میں دلائل کے رنگ میں غلبہ عطا فرمایا۔