حیاتِ بقاپوری — Page 38
حیات بقاپوری 38 اور میں نے اس حوالہ کا نشان کر دیا اور قرآن مجید کی آیت بھی دکھا دی جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو صدیق نبی لکھا ہوا ہے۔اس پر وہ لوگ کہنے لگے کہ آپ آج رات ہماری مسجد میں حضرت مرزا صاحب کے متعلق صحیح صحیح حالات بیان کریں۔چنانچہ میں نے رات کو تقریر کی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے سات افراد نے وہاں پر ہی بیعت کر لی۔فالحمد للہ علی ذالک۔آنحضرت کے تین دعوے ریاست پٹیالہ کا تبلیغی دورہ کرتے ہوئے جب میں انبالہ چھاؤنی کے پاس شاہ آباد نامی اسٹیشن پر پہنچا جہاں پر خان صاحب ڈاکٹر عبد اللہ صاحب کو ئٹہ والے کے بھائی رحیم اللہ صاحب اور ایک دو گھر اور بھی احمدی تھے۔وہاں پر عشاء کی نماز کے بعد غیر احمدیوں نے اپنی مسجد میں مجھے وعظ کرنے کا موقعہ دیا۔صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر کرنے پر لوگوں نے اعتراض کیا کہ مرزا صاحب صرف مسیح موعود ہونے کا دعوی نہیں کرتے بلکہ ساتھ ہی مہدی ہونے کا بھی دعوی کرتے ہیں۔آپ جتلائیں کہ کسی نبی نے آج سے پہلے دو دعوے کئے ہیں؟ میں نے کہا حضرت اقدس نے تو کرشن ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔وہ کہنے لگے کسی ) اور نبی کی مثال پیش کریں جس نے تین دعوے کئے ہوں۔میں نے کہا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کے حضرت مرزا صاحب خادم ہیں تین دعوے کئے ہیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے سامنے اپنے آپ کو مثیل موسیٰ کے رنگ میں پیش فرمایا۔جیسا کہ قرآن کریم کی آیت انا ارسلنا اليكُم رَسُولا اجد اعلیکم گنا از سلنا إلی فرعون رو [ (۱۹۷۳) میں آپ کو مثیل موسیٰ کہا گیا ہے۔عیسائیوں کے سامنے آپ نے اپنے آپ کو فارقلیط کی صورت میں پیش کیا اور فرمایا میں وہ فارقلیط ہوں جس کے تم منتظر تھے۔جیسا کہ اس دعویٰ کا ذکر و میر ایر سُول یا تی من بعدی اسمہ احمد (۷:۲۱ ) میں ہے۔کفار مکہ کے سامنے آپ نے فرمایا۔میں وہ نبی ہوں جو مذہب ابراہیمی لے کر مبعوث ہونے والا تھا۔جیساکر فرمال امام ایرانیم خو مسلم مسلمین (۷۹:۳۳)۔میرے اس مدل جواب پر ان میں سے بعض لوگ بہت متاثر ہوئے۔گو چند ایک معاندانہ اعتراض بھی کرتے رہے۔