حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 327 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 327

حیات بقاپوری 327 (۵) خلیفہ کا ماننا اس لئے بھی ضروری ہے کہ جس طرح مامور من اللہ کی بیعت کرنے کے بغیر خدا تعالیٰ کی طرف سے فیوض و برکات نازل نہیں ہو سکتے۔گویا مامور اور اُس کے خلفاء بمنزلہ پھلدار درخت کے ہوتے ہیں۔جو ٹہنی درخت کے ساتھ پیوند ہوگی وہی ہری بھری ہوگی اور اس کو پھل لگیں گے۔اور جو ٹہنی درخت سے الگ ہو جائے گی۔وہ سوکھ جائے گی اور اس کو پھل نہیں لگی گا۔یہی قرآن شریف سے ثابت ہے جیسا کہ فرمایا: مثل كلمة طيبة كشجرة طيبة اصلها ثابت وفرعها في السما تؤتى اكلها كل حين باذن ربها (ترجمه کلمه طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ کی سی ہے۔جسکی جڑیں زمین میں راسخ اور شاخیں آسمان میں پھیلی ہوتی ہیں۔وہ ہر سال پھل بھی خدا کے اذن سے دیتا ہے )۔اور ایسا ہی ہمارے مشاہدے میں آیا۔جنہوں نے خلافت سے علیحدگی اختیار کی انکی حالت صحیح نہ رہی بلکہ وہ دہریت کی طرف چلے گئے۔اور کسی قسم کے ان میں روحانیت کے آثار باقی نہ رہے اور فیوض و برکات سمادی سے مرحوم ہو گئے۔نعوذ باللہ۔تقریر حضرت خلیلہ اسی اول اب میں مناسب کجھتا ہوں کہ وہ تقریر جوحضرت خلیفہ ایسی اول نے احمد یہ بلڈنٹس لاہور میں کی تھی جو بدرم و 11 جولائی ۱۹۱۲ء میں شائع ہوئی ہے نقل کروں تا کہ ظاہر ہو جائے کہ مولوی محمد علی صاحب اور اُن کے رفقاء امر خلافت میں حضرت خلیفہ اول کے بھی بر خلاف ہیں: بحث خلافت: تم کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمارے بادشاہ حضرت مسیح موعود کے ذریعہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایک کیا۔پھر اسکے مریکے بعد میرے ہاتھ پر تم کو تفرقہ سے بچایا۔اس نعمت کی قدر کردار رکھی بحثوں میں نہ پڑو۔خلیفہ اول کے وقت میں خلافت پر اعتراض:-