حیاتِ بقاپوری — Page 328
حیات بقاپوری 328 میں نے دیکھا ہے کہ آج بھی کسی نے کہا کہ خلافت کے متعلق بڑا اختلاف ہے۔حق کسی کا تھا اور دی گئی کسی اور کو۔میں نے کہا کہ کسی رافضی کو جا کر کہدو کہ علی کماحق تھا ابو بکڑ نے لے لیا۔میں نہیں سمجھتا کہ اس قسم کی بحثوں سے تمہیں کیا اخلاقی یا روحانی فائدہ پہنچتا ہے۔جس کو خدا تعالیٰ نے چاہا خلیفہ بنادیا اور تمہاری گردنیں اس کے سامنے جھکا دیں۔خدا تعالیٰ کے اس فعل کے بعد بھی تم اس پر حماقت کرو تو سخت حماقت ہے۔خلیفہ بنانا خدا کا کام ہے:۔میں نے تمہیں بارہا کہا ہے اور قرآن مجید سے دکھایا ہے۔کہ خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔آدم کو خلیفہ بنا یا کس نے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔انی جاعل فی الارض خليفة خلیفہ پر مفسد ہونے کا الزام:۔اس خلافت آدم پر فرشتوں نے اعتراض کیا کہ حضور وہ مفسد فی الارض اور مسفك الدم ہے۔مگر انہوں نے اعتراض کر کے کیا پھل پایا؟ تم قرآن مجید میں پڑھ لو کہ آخر انہیں آدم کے لئے سجدہ کرنا پڑا۔خلیفہ کے سامنے سر جھکانے کا حکم:۔پس اگر کوئی مجھ پر اعتراض کرے اور وہ اعتراض کرنے والا فرشتہ بھی ہو تو میں اُسے کہوں گا کہ :۔آدم کی خلافت کے سامنے مسجود ہو جاؤ تو بہتر ہے اور اگر وہ آئی اور استکبار کو اپنا شعار بنا کر ابلیس بنتا ہے تو پھر یا در رکھے کہ ابلیس کو آدم کی مخالفت نے کیا پھل دیا۔میں پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی فرشتہ بن کر بھی میری خلافت پر اعتراض کرتا ہے تو سعادت مند فطرت اُسے اسجد والا دم کی طرف لے آئے گی اور اگر ابلیس ہے تو وہ اس دربار سے نکل جائے گا۔دوسرا خلیفہ: پھر دوسرا خلیفہ داؤد تھا۔یا داؤد انا جعلنك خليفة في الارض داد کو بھی خدا نے ہی خلیفہ بنایا۔ان کی مخالفت کرنے والوں نے تو یہاں تک ایجی ٹیشن کی کہ وہ انارکسٹ لوگ آپ کے قلعہ پر حملہ آور ہوئے اور کود پڑے۔مگر جس کو خدا نے خلیفہ بنایا تھا۔کون تھا، جو اس کی مخالفت کر کے نیک نتیجہ دیکھ سکے۔