حیاتِ بقاپوری — Page 191
حیات بقاپوری 191 چھوٹے تھیلے مٹھائی کے ڈال کر لے جارہی ہے یہ دیکھ کر میں خوش ہوا کہ الحمد للہ ان کو خدمت مساکین کا بڑا شوق ہے۔۱۱۲ مورخہ ۱۔فروری ۱۹۵۵ء کا واقعہ ہے۔کہ بوقت بارہ بجے دن کے میرے دائیں ہاتھ کے بازو پر فالج کا حملہ ہوا اور اس سرعت سے دماغ کی طرف آگیا کہ بازو شل ہو گیا۔میں دعا کرنے لگا تو زبان پوری حرکت نہ کرسکی۔آخر آسمان کی طرف منہ کر کے دل سے عرض کیا۔میں اس ذات مہربان پر قربان جاؤں۔اعجازمی طور پر اس سمیع الدعا نے میری دعاسنی۔اور میں نے دیکھا گویا اس نے لحاف کی طرح بادل اوڑھے میری مدد کے لئے حرکت کی ہے۔جس سے تسلی ہوئی۔فالحمد للہ۔اس واقعہ کی تفصیل میرے لڑکے میجر ڈاکٹرمحمد اسحاق نے بھی اپنے ایک خط میں کی ہے: نقل خط محمد اسحاق صاحب بقا پوری مورخہ ۱۔فروری ۱۹۵۵ء کو ایک دن ۱/۲ ۱۲ بجے کے درمیان جبکہ میں دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔میرے باورچی نے آکر کہا۔کہ بابا صاحب ( یعنی والدم صاحب دام ظلہ) کی طبیعت خراب ہے۔اور کہ مجھے گھر میں بلایا ہے۔چونکہ حضرت والد صاحب کو دل کے دورے کی شکایت رہتی ہے۔اور میں اس دورے کی اصل حقیقت سے واقف ہونا چاہتا تھا۔اس لئے فورا میں بنگلہ پر پہنچا۔پہنچنے سے پہلے میرے دل میں مختلف قسم کے خیالات تھے۔سوچتا تھا کہ شاید حضرت والد صاحب چار پائی پر لیٹے ہوں گے اور فلاں کیفیت ہوگی۔وغیرہ۔بنگلہ کے صحن میں جب میں نے حضرت والد صاحب کو چارپائی پر بیٹھے دیکھا جو سامنے میز پر کھانا رکھے تناول فرما رہے تھے، تو میری پریشانی بالکل دور ہوگئی۔اور میں نے مسکراتے ہوئے آپ سے پوچھا کہ مجھے کیوں بلوایا ہے؟ جب حضرت والد صاحب نے کلام کیا، تو مجھے حد درجہ پریشانی نے گھیرا۔کیونکہ حضرت والد صاحب کلام ٹھیک طرح سے نہ کر سکتے تھے۔اور ان پر ہلکے قسم کے فالج کا حملہ ہو چکا تھا۔امتحان کرنے پر معلوم ہوا کہ دائیں طرف فالج ہے۔ٹانگ اور بازو پر بھی اثر ہے۔سوالات سے معلوم ہوا کہ آج دن کو والد صاحب کافی دیر گھومتے رہے ہیں اور کم و بیش چار میل کے قریب چل چکے ہیں۔اور اس کے بعد غلطی سے ٹھنڈے کمرے میں کچھ عرصہ کے لئے جا بیٹھے ہیں۔حضرت والد صاحب کو چونکہ بلڈ پریشر کی بھی بیماری ہے اس لئے علاج کی بھی تفہیم ہوئی کہ ایسا فوری اقدام کرنا چاہیے جو کہ ایک طرف تو جسم کو اوپر سے گرم کرے اور دوسرے بلڈ پریشر کو کم کرے۔ساتھ ہی جائے متعلقہ پر دوران خون بھی زیادہ ہونا چاہئے۔چنانچہ ایسا کر کے چار پائی پر لٹا دیا گیا۔اور جہاں جہاں فالج کا اثر تھا، تارپین کے تیل کی مالش کی گئی۔اور۔۔۔وغیرہ کا بھی کام لیا گیا۔ایک دوائی جس سے فوری طور پر کام لیا گیا، نیکوٹینگ ایسڈ کی گولیاں تھیں۔یہ دوائی چونکہ جسم کے اطراف پر جلدی دوران خون زیادہ کرتی ہے، اس لئے بلڈ پریشر کو کم کرنے میں فوری طور پر کام دیتی ہے۔بعدہ آرام اور نیند کاخاصہ انتظام کیا گیا۔اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا شام تک آپ کی طبیعت بالکل صاف تھی۔ایسی حالت میں ایک