حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 190 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 190

حیات بقاپوری 190 ہی ہوا اور چند ہی دنوں میں تین صد روپے کی رقم ایک طرف سے اور تین صد روپے کی رقم دوسری طرف سے مجھے مل گئی۔اور مقررہ تاریخ سے بہت پہلے یعنی دس ستمبر کو میں نے مبلغ چھ صد روپے خان صاحب کی خدمت میں پیش کر کے قرضہ بے باق کر دیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔-۱۰ ۱۰ جون ۱۹۱۵ء کا واقعہ ہے کہ محترم مولوی غلام رسول صاحب را جیکی میرے مکان پر تشریف لائے۔آپ کے ہاتھ میں ایک خط تھا جو ایک شخص نے آپ کو دعا کے لئے لکھا تھا۔مولوی صاحب موصوف نے مجھے بلا کر کہا کہ اس شخص کے والدین کے ساتھ آپ کے بھی پرانے تعلقات تھے۔آئیے ! ہم دونوں مل کر اس کے لئے دعا کریں۔چنانچہ ہم دونوں نے دعا کی۔دوران دعا مجھے القاء ہوا: کشائش جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کی ضرورت پوری ہو جائے گی۔میں نے یہ الہام مولوی صاحب کو بتلا دیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس شخص کا کام ہو گیا۔اور اس نے کچھ روپے بطور نذرانہ مولوی صاحب کو بھیجے۔۱۰۹۔جب مجھے اس کا علم ہوا۔تو میرے دل میں بشری کمزوری کی بناء پر یہ خیال آیا کہ دعا میں تو میں بھی شریک تھا۔مگر نذرانہ یک طرفہ، اس میں کیا راز ہے؟ یہ خیال دل میں آتے ہی آواز آئی: تیرا مقام دینا ہے، نہ لینا ۱۱۰ اسی طرح ایک اور بھی واقعہ ہے۔جبکہ سلسلہ کے ایک بزرگ عالم کو بعض مخیر حضرات کی طرف سے امداد ملی تو اندرون نفس سے یہ خواہش اٹھی ، کہ کاش ! يرزقه من حيث لا يحتسب کے مقام کی مجھے بھی سیر کرائی جاتی۔اس اندرونی خواہش کے پیدا ہوتے ہی فورا یہ آواز سنائی دی کہ: تیرے لڑکے بھیجتے ہیں یکم جنوری ۱۹۵۵ء کو رویاء میں دیکھا کہ میری بیوی غرباء کے لئے دو تین بڑے بڑے تھیلوں میں چھوٹے