حیاتِ بقاپوری — Page 189
حیات بقاپوری 189 بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم ۱۹۲۸ء کی بات ہے کہ میری زمین کا مقدمہ سرگودھا میں ڈپٹی کمشنر کے پاس تھا۔میں نے حضرت مولانا بقا پوری صاحب کی خدمت میں درخواست کی کہ مقدمہ میں میری کامیابی کے لئے دعا فرما دیں۔کچھ عرصہ بعد مولانا صاحب موصوف نے مجھے بتایا کہ مجھے الہام ہوا ہے: نجیک دس ہاڑ۔یعنی دس ہاڑ کو تمہیں مقدمہ سے نجات ملے گی۔اور میں دس ہاڑ کا بیتابی سے انتظار کرنے لگا۔اس الہام کے بعد جب مقدمہ کی تاریخ پر ہم حاضر ہوئے۔تو مخالف فریق نے صلح کے لئے ڈپٹی کمشنر صاحب سے کہا۔مگر اس نے انکار کر دیا۔اس کے بعد مقدمہ کی کئی تاریخیں گزرگئیں مگر فیصلہ نہ ہوا۔یہاں تک کہ جب دس ہاڑ بھی گزر گیا، تو ہمیں الہام کے بارے میں شک گزرنے لگا۔آخر کا ر ایک سال گزر گیا۔اور اگلے سال مقدمہ کی تاریخ دس ہاڑ مقرر ہوئی اور اس تاریخ کو مقدمہ کا فیصلہ ہمارے حق میں ہو گیا۔اس دوران میں میں نے بھی صلح کی کوشش کی مگر ڈ پٹی کمشنر نے نہ مانا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کے نہ ماننے میں بھی خدا کا ہاتھ تھا۔جو کہ اپنے اس الہام کو پوری شان و شوکت سے پورا کرنا چاہتا تھا۔الحمدللہ علی ذالک۔غلام رسول بسرا چک نمبر ۹۹ یکم جنوری ۱۹۵۶یه شمالی سرگودها ۱۰۷ ۲۸ نومبر ۱۹۵۰ء کا واقعہ ہے کہ خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کے قرضہ کی رقم جو مبلغ بارہ صد روپے میرے ذمہ واجب الادا تھی ، مولوی صاحب نے مجھے لکھا کہ آپ اس رقم کی ادائیگی کا جلد انتظام کریں۔میں نے ان سے مل کر ماہوار اقساط کی صورت میں ادائیگی کا وعدہ کیا مگر اسے آپ نے منظور نہ کیا۔اور یکمشت وصولی پر اصرار کرتے ہوئے فرمایا کہ جب آپ یکمشت رقم ادا کریں گے تو اس وقت میں کچھ رقم چھوڑ دوں گا۔اس موقعہ پر میں نے انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کی طرف توجہ دلائی جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض خواہ کو فرمایا۔کہ نصف رقم قرضہ تم چھوڑ دو اور مقروض کو فرمایا کہ نصف کی ادائیگی کا تم انتظام کرو۔اس فیصلہ نبوی کو میں نے یاد دلا کر کہا کہ اگر آپ نصف رقم چھوڑ دیں تو بقیہ نصف کی جلد ادائیگی کے متعلق میں کوشش کرونگا۔اس پر آپ نے نہایت خوش اخلاقی کا نمونہ دکھلاتے ہوئے بخوشی منظور کر لیا۔مگر شرط یہ تھی کہ ۱۵ دسمبر ۱۹۵۰ء تک رقم ادا کر دی جائے۔بشری کمزوری کے باعث اس پر مجھے سخت فکر ہوا کہ اس قلیل عرصہ میں اتنی رقم کہاں سے مہیا کر سکوں گا۔آخر آستانہ الہی پر گر کر دعا کی تو اثناء دعا مندرجہ ذیل الفاظ زبان پر جاری ہوئے: میں اللہ قادر مقتدر ہوں جس سے مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ جلد ہی غیب سے ادائیگی کی کوئی صورت پیدا فرمادے گا۔چنانچہ ایسا