حیاتِ بقاپوری — Page 184
حیات بقاپوری 184 ۹۲ - ۲۲ مئی ۱۹۵۳ء کو دیکھا کہ ایک کھیت جس میں کچھ بویا ہوا ہے اسکی تلائی یعنی گوڈی حضرت میاں بشیر احمد صاحب قبلہ ایک بڑی کدال سے کر رہے ہیں اور اُن کے مقابل میں میں بھی ایک چھوٹے سے گھر پے سے گوڈی کر رہا ہوں۔لیکن حضرت میاں صاحب کے مقابلے میں میں نے تھوڑی سی زمین کی تلائی کی ہے کہ سانس پھول گیا ہے۔اور آپ ماشاء اللہ خوب کدال چلا رہے ہیں اور بہت سا حصہ کھیت کا گوڈ لیا ہے کہ آنکھ کھل گئی۔نوٹ: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاجزادہ صاحب کا عملی قدم باقی لوگوں سے کہیں زیادہ مجاہدانہ اور عا شقانہ ہے۔یعنی وہ اپنے دینی کاموں میں ہم سے بہت زیادہ تیز قدم ہیں۔۹۳ - ۲۳ مئی ۱۹۵۴ ء مطابق ۱۹ رمضان المبارک بعد نماز مغرب برادرم مکرم حضرت مولوی راجیکی صاحب غریب خانے پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں آپ کی صحت کے لئے دعا کر رہا تھا کہ مجھے القاء ہوا کہ مولوی بقا پوری کو کہدو کہ وہ اپنی موت کا ذکر بار بار اپنی بیوی سے نہ کیا کریں کہ اس سے اُن کو تکلیف ہوتی ہے۔۹۴ - ۲۹ مئی ۱۹۵۳ ء دیکھا کہ حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ الود و داندر سے مسجد کے صحن میں تشریف لائے ہیں۔حضور کی ریش مبارک لمبی ہے۔آپ اس طرح بیٹھے ہیں کہ چہرہ مبارک شمال کی طرف ہے اور بایاں گھٹنا کھڑا ہے۔اور دایاں بچھا ہے۔خاکسار جس مکان کے اندر تھا وہاں سے حضرت صاحب خاکسار کو محن میں نظر آتے ہیں۔جب میں حضور کے پاس آیا تو آپ نے میری طرف متوجہ ہو کر محبت سے فرمایا کہ چوٹ لگنے سے آنکھ میں کمزوری تو نہیں ہو گئی۔میں نے عرض کیا کہ نہیں ڈاکٹر صاحب نے کالی عینک لگانے کو کہا ہے اس سے نظر کم آتا ہے۔لیکن ٹھنڈک پہنچتی رہتی ہے۔حضور کو ہماری اعمالی کمزوریوں کی وجہ سے مغموم دیکھ کر میں نے عرض کیا کہ حضور ہماری غلطی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انوار و برکات حاصل کرنے کے لئے عشق و محبت سے مجاہدانہ قدم نہیں اٹھاتے۔یہ اس کا سراسر فضل اور احسان ہے کہ وہ ہمارے قلوب کو اپنا جلوہ گاہ بنانا چاہتا ہے۔ورنہ انسان اور خدا تعالیٰ کی نسبت ہی کیا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس طرح کے کلمات بیان کرنے سے حضور خوش ہیں کہ ہماری جماعت میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو حقیقت شناس ہیں۔دوسری طرف میں اپنے قلب میں دیکھتا ہوں کہ جس طرح بلب میں بجلی کی تاریں روشن اور چمکدار ہوتی ہیں اسی