حیاتِ بقاپوری — Page 183
حیات بقاپوری 183 ۱۸۹ مئی ۱۹۵۷ء کو رویا میں دیکھا کہ حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اور چوہدری نصراللہ خاں صاحب شیخ نیاز محمد صاحب مرحوم سے میری کتاب حیات بقا پوری" کے متعلق کچھ فرمارہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ کتابت میں گوشخص ہیں۔لیکن اس کا ہر ایک واقعہ سینکڑوں روپے سے زیادہ قیمت رکھتا ہے۔اس سے میری حوصلہ افزائی ہوئی اور میں خوش ہوں۔کیونکہ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو اپنے خدام سے کس قدر ہمدردی ہے۔( نوٹ : حیات بقا پوری حصہ اوّل) -۹۰ رمضان المبارک مطابق ۱۲ مئی ۱۹۵۳ء کو رات کے دو اڑھائی بجے کے قریب جب میں بستر پر لیٹا ہوا تھا تو ایک عجیب نظارہ دیکھا۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی جن کے باورچی خانہ کی دیوار میرے موجودہ مکان واقعہ ربوہ کے صحن کی طرف ہے۔اس کی منڈیر پر میں نے ایسی تیز روشنی دیکھی جو چودھویں رات کی چاندنی سے بھی زیادہ روشن تھی۔یہاں تک کہ منڈیر کے ذرات تک بھی نظر آرہے تھے۔یہ نظارہ میں دو تین منٹ تک دیکھتا رہا۔پھر میں نے اپنی اہلیہ کو آواز دی کہ دیکھو حضرت مولوی صاحب موصوف کے باورچی خانہ کی منڈیر پر کس قدر نور برس رہا ہے۔لیکن جب میں نے دوبارہ منڈیر کی طرف منہ کیا تو وہ روشنی غائب تھی۔میری اہلیہ نے کہا کہ وہ روشنی تو کہیں نہیں۔البتہ اُن کے باورچی خانے کی انگیٹھی سے روشنی آرہی ہے وہ سحری پکا ر ہے ہیں۔اس سے میں نے سمجھ لیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تجلیات مومن کو دکھائی جاتی ہیں۔وہ انسانی اعمال کے روحانی ثمرات ہی ہوتے ہیں۔یعنی وہ نور جو مجھے مولوی صاحب موصوف کے باورچی خانے کی منڈیر پر دکھایا گیا۔وہ اُن کے سحری تیار کرنے کے نتیجہ میں ظہور میں آیا اور مجھے بھی دکھایا گیا۔یہ نظارہ میں نے عین بیداری کی حالت میں دیکھا۔۱۹۱ مئی ۱۹۵۳ء مطابق ۱۵ رمضان المبارک حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نے فرمایا کہ آج رات جب میں آپ کی زخم چشم کی شفاء کیلئے دعا مانگ رہا تھا تو مجھ پر کشفی حالت طاری ہوئی اور میں دیکھتا ہوں کہ ایک نور کا دریا بہ رہا ہے اور اس میں آپ کو لے جا کر غوطے لگوا کر نہلا رہے ہیں اور آپ خود بھی غوطے لگا کر نہاتے ہیں۔اس لئے میں نے سمجھا کہ یہ بیماری آپ کے لئے بڑی مبارک ہے۔